ندائے حق: ہند۔امریکا تعلقات میں اچانک گرمجوشی کا سبب؟... اسد مرزا

ہند۔امریکا تعلقات میں اچانک گرمجوشی کی وجہ، خطے اور دنیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات اور آئندہ امریکی صدارتی انتخابا ت بھی ہوسکتے ہیں۔

تصویر توئٹر @DrSJaishanka
تصویر توئٹر @DrSJaishanka
user

اسد مرزا

ایشیائی خطے میں ہندوستان کے رول کے متعلق امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ بعض تبصروں اور بیانات سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ہندوستان اور اس کی صلاحیتوں کے متعلق امریکا کے نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔ امریکا کے نائب وزیر خارجہ اسٹیفن ای بیگن، پچھلے ہفتے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹوکیو میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔

یہ ملاقاتیں، مذاکرات اور دورے امریکا کی جانب سے چین کے خلاف تقریباً ہر محا ذ پر بالواسطہ جنگ شروع کر دینے کے بعد ہوئے ہیں اور اسے بیجنگ کے لیے ایک واضح اسٹریٹیجک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس، تجارت، ٹیکنالوجی، ہانگ کانگ، تائیوان اور حقوق انسانی کے معاملات پر بھی بیجنگ کی نکتہ چینی میں شدت آئی ہے۔ چین ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور امریکا پر ساوتھ چائنا سمندر میں جارحیت کے الزامات عائد کرتا ہے۔ کورونا کے معاملے میں اس کا دعوی ہے کہ اس نے عالمی ادارہ صحت کو تمام متعلقہ اعدادو شمار بروقت فراہم کیے ہیں۔ چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ غلط سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی تردید کرتا ہے اورمغربی ملکوں پر اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کے الزامات عائد کرتا ہے۔

امریکی رہنما کا دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایسے وقت ہوا ہے جب ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدوں پر فوجی تعطل چھٹے ماہ میں داخل ہوچکا ہے۔ اسٹیفن ای بیگن کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے کور کمانڈروں کی سطح پر بات چیت بھی جاری تھی۔ اسٹیفن ای بیگن نے اپنے دورے کے دوران ہند۔امریکا تعلقات اور اس کا مستقبل نیز علاقائی سلامتی میں ہندوستان کے مستقبل کے رول کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بہت سی تمثیلوں اور صفتوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکا کو نیٹو جیسے سیکورٹی پارٹنر شپ کے ماڈل یا سرد جنگ کے بعد کے دور کے ماڈلوں پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یو ایس۔ انڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیگن نے ایک حقیقی اور مضبوط پارٹنرشپ کے لیے ابھرتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان اور امریکا کے درمیان مابعد جنگ اتحاد کے ماڈل کے بجائے ایک مشترکہ سیکورٹی اور جغرافیائی سیاسی اہداف، مشترکہ مفادات اور مشترکہ قدروں کا ذکر کیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے چین کے خطرے کے تئیں بھی متنبہ کیا۔ اسٹیفن ای بیگن نے باہمی سیکورٹی پارٹنرشپ کی متعلق تبدیل شدہ خیالات پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں باہمی دفائی معاہدوں کے متعلق گزشتہ صدی کے ماڈل پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جس میں امریکی افواج کی کسی ملک میں موجودگی ضروری ہوتی تھی۔ آج ہم ہندوستان جیسے ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات سے مستفید ہو رہے ہیں، جو ایک آزاد اور کھلے ہند۔بحرالکاہل کے ہمارے نظریات سے متفق ہیں اور جو اسے اپنی دفاع کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا کے بحرالکاہل اتحاد سے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران ہند۔ بحرالکاہل خطے کی سلامتی اور خوشحالی میں مدد ملی ہے۔

کواڈ پارٹنرشپ

اسٹیفن ای بیگن کے مطابق ہندوستان اور امریکا کواڈری لیٹرل سیکورٹی ڈائیلاگ یا QUAD کے نام سے معروف جامع سیکورٹی مذاکرات کے سلسلے میں حد سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔ واڈ، امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان ایک غیر رسمی اسٹریٹیجک فورم ہے، جس کا قیام 2007 میں عمل میں آیا تھا۔ تاہم چین کے احتجاج اور 2008 میں آسٹریلیا کے اس سے الگ ہوجانے کے بعد یہ اتحاد سر د مہری کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کے علاوہ جاپان اور ہندوستان میں چین سے دوستانہ تعلق رکھنے والے وزرائے اعظم کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے بھی یہ اتحاد اپنی معنویت تقریباً کھوچکا تھا۔ لیکن ساوتھ چائنا سمندر میں چین کی سرگرمیوں اور اس کے سیاسی عزائم کی وجہ سے جب حالات کشیدہ ہوئے تو 2017 میں اس فورم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسٹیفن ای بیگن ہند۔ بحرالکاہل خطہ اور دنیا بھر میں ہندوستان کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔ بیگن نے بھی کہا تھا کہ امریکا، ہندوستان کو اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گا اور مستقل میں باہمی فوجی مشقوں اور تبادلوں، مشترکہ دفاعی شعبوں اور مشترک ترقی کے ذریعہ ایک دوسرے کی مدد کو فروغ دے گا۔

اس دورے کے دوران ہونے والے مذاکرات سے اس ماہ کے اواخر میں مجوزہ ہند۔امریکا 2+2 وزارتی میٹنگ کے لیے اسٹیج بھی تیار ہوجائے گا۔ گوکہ 2+2 میٹنگ کے 26-27 اکتوبر کو ہونے کے امکانات ہیں تاہم یہ کورونا وائرس کی وبا سے پیدا شدہ صورت حال پر بھی منحصر کرے گا۔ دونوں فریق پچھلے چار برس سے ہونے والی کوششوں کو مستحکم کرنے کے لیے اس میٹنگ کو 3 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل مکمل کر لینا چاہتے ہیں۔

اسٹیفن ای بیگن کا کہنا تھا کہ ’’وزیر خارجہ پومپیو اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع کے درمیان مجوزہ 2+2 وزارتی میٹنگ ان امور میں سے بعض کے متعلق اگلے اقدامات کی نشاندہی کے لیے ایک شاندار موقع فراہم کرے گا۔“ دونوں ملکوں نے تقریباً ایک عشرے قبل 2010 میں خارجہ اور دفاع کے وزیروں کی سطح پر 2+2 مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ مذاکرات دسمبر 2009 میں دونوں ملکوں کے مابین ایڈوانس سیکورٹی کوآپریشن کے لیے لائحہ عمل کے طور پر شروع کیے گئے تھے۔ اس کے تحت بحری، سائبر اور خلائی سیکورٹی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ بات چیت وزارتی سطح پر ہوتی ہے اس لیے اس میکانزم کے تحت مزید امور کا احاطہ کیے جانے کی بھی توقع ہے۔

ہندوستان میں امریکی مفادات

امریکی انتظامیہ جس انداز میں ہندوستان پرخصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے اور اس نے دونوں ملکوں کے اعلی سطح کے وزراء اور حکام کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تیز کردیا ہے، اس سے ہندوستان میں امریکا کی اچانک بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہونا لاحق ہے۔ پہلی بات تویہ سمجھ میں آتی ہے کہ امریکی انتظامیہ ہند۔ بحرالکاہل خطے میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے ازسرنو اقدامات کر رہا ہے لیکن وہ چاہتا ہے کہ ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا جیسے کواڈ ممالک، امریکہ کی کم مدد کے بغیر ہی اس خطے میں زیادہ سرگرم رول ادا کریں۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ کواڈ اتحاد کو خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ امریکا دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان مجوزہ 2+2 مذاکرات کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ ہوسکتا ہے یہ محض صرف دکھاوا ہو۔ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ صدارتی انتخابات میں ہندوستانی ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ بعض امریکی ریاستوں میں ہندوستانی ووٹروں کا رول کافی اہم ہے اور ٹرمپ انتظامیہ ہر حال میں ان ووٹوں کو اپنے حق میں یقینی بنانا چاہتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا میں بی جے پی کے دوست(Friends of BJP) جیسی تنظیمیں، ٹرمپ کے حق میں کچھ ووٹ منتقل کرانے میں کامیاب ہوجائیں اور اسی چیز کو یقینی بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ امریکا اور ہندوستان دونوں جگہ یہ ڈرامہ کر رہی ہو۔

next