برتھ ڈے اسپیشل: سورج کو مرغ کی چونچ میں رکھنے والا شاعر ندا فاضلی

ندا فاضلی کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے سورداس اور کبیر کے ساتھ ساتھ خسرو، میرا، رحیم، غالب، اقبال ہی نہیں ایلیٹ، گگول، انتون چیخوف اور ٹکاسا کا بھی بغور مطالعہ کیا۔

ندا فاضلی، تصویر بشکریہ انڈیا ٹوڈے
ندا فاضلی، تصویر بشکریہ انڈیا ٹوڈے
user

تنویر احمد

اردو شعر و ادب کا ایک بڑا نام ہے ندا فاضلی۔ اتنا بڑا کہ ان کا اصل نام مقتدیٰ حسن بہت پیچھے چھوٹ گیا۔ یہ نام بڑا یوں ہی نہیں بن گیا بلکہ اس کے پیچھے ان کی سخت جدوجہد اور زندگی کو اپنے انداز میں سمجھنے کا طریقہ ہے۔ ندا فاضلی نے روایت کی انگلی پکڑ کر آگے بڑھنے کو کبھی ترجیح نہیں دی بلکہ اپنے شعور سے ایک ایسا راستہ تلاش کیا جو انھیں درست لگتا ہے، چاہے اس کوشش میں وہ تنہا ہی کیوں نہ نظر آئیں۔ ایسے دور میں جب لوگ سچ بولنے سے گھبراتے ہیں اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے سے بھی گریز کرتے ہیں، ندا فاضلی نے بزور آواز حق بیانی کی۔ یہ باتیں ان کی شاعری میں اکثر و بیشتر نظر آئی ہیں، اور تنہائی کو لے کر تو انھوں نے ایسے ایسے اشعار کہہ ڈالے ہیں جو لوگوں کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔

جھوٹ کو جھوٹ کہا سچ کو ہی سچ بولا ہے

اس کو سمجھایئے وہ شخص بہت بھولا ہے

--

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا

وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

--

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک

جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

12 اکتوبر 1938 کو مدھیہ پردیش کے شہر گوالیر میں ایک ادبی گھرانہ کا چراغ بن کر پیدا ہوئے ندا فاضلی کے بارے میں یہ بات انتہائی دلچسپ ہے کہ انھیں شاعری سے لگاؤ اس لیے نہیں ہوا کہ گھر میں ادبی ماحول تھا، بلکہ وہ تو ایک دن کسی راستے سے گزر رہے تھے اور مندر میں بجتے بھجن نے ان کے قدم روک دیئے۔ بھجن دراصل سورداس کی ایک نظم تھی جس میں رادھا اور کرشن کی جدائی کا واقعہ بیان کیا گیا تھا۔ نظم کے انداز اور طریقہ بیان سے وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ شاعری کو اپنانے میں ذرا بھی دیر نہیں کی۔ ایک انٹرویو کے دوران ندا فاضلی نے کہا بھی تھا کہ "آدمی پیدا ہوتا ہے مرنے کے لیے، یہ سب سے بڑا سچ ہے۔ لیکن یہ جملہ شاعری نہیں ہے۔ اس کو شاعری بنانے کے لیے آپ کو آج سے 600 سال پیچھے کبیر داس کے پاس جانا پڑے گا جہاں وہ کہتے ہیں– چلتی چاکی دیکھ کر دیا کبیرا روئے/ دوئی پاٹن کے بیچ میں ثابت بچا نہ کوئے۔"

یعنی ندا فاضلی اپنے تجربات اور حقائق کو بیان کرنے کے لیے شاعری کا سہارا لینے کو ترجیح دینے لگے اور اس کے لیے انھوں نے عمیق مطالعہ بھی کیا۔ سورداس اور کبیر کے ساتھ ساتھ خسرو، میرا، رحیم، غالب، اقبال ہی نہیں ایلیٹ، گگول، انتون چیخوف اور ٹکاسا کا بھی بغور مطالعہ کیا۔ ندا فاضلی نے اس تعلق سے ایک گفتگو کے دوران کہا تھا کہ "فراق کا جملہ ہے 'صرف اردو پڑھ کر اردو میں اچھی شاعری نہیں ہو سکتی۔' اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس دنیا میں آپ رہتے ہیں اس سے آپ کی باخبری ہونی چاہیے۔" ندا فاضلی باخبر اس دنیا سے بھی رہے اور اپنے آس پاس کے ماحول سے بھی۔ وہ جو دیکھتے تھے، جیسا محسوس کرتے تھے، جس تکلیف سے آشنا ہوتے تھے اسے شعری پیرایہ میں ڈھال دیتے تھے۔ اسی کا نتیجہ ہیں ان کے یہ اشعار:

ہمارے یہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو

گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

--

بولا بچہ دیکھ کر مسجد عالیشان

اللہ تیرے ایک کا اتنا بڑا مکان

--

تیرا سچ ہے ترے عذابوں میں

جھوٹ لکھا ہے سب کتابوں میں

--

دکھ میں نیر بہا دیتے تھے سکھ میں ہنسنے لگتے تھے

سیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے

--

صرف آنکھوں سے ہی دنیا نہیں دیکھی جاتی

دل کی دھڑکن کو بھی بینائی بنا کر دیکھو

زندگی سے متعلق اپنے نظریہ کے بارے میں 2006 میں ڈوئچے ویلے کے نمائندہ امجد علی کو انٹرویو دیتے ہوئے ندا فاضلی نے کہا تھا "میرے خیال سے زندگی مسلسل سفر کا نام ہے جس میں کوئی منزل نہیں ہوتی۔ سفر کو ہی آپ منزل سمجھ لیجیے۔" وہ مزید کتے ہیں "پیدا ہونا اور مرنا دو اتفاقات ہیں جس میں انسان کا دخل نہیں ہے۔ پیدا ہونے کے بعد جو وراثت ملتی ہے وہ ایک اتفاق ہی ہے، لیکن اس اتفاق میں کچھ اپنا جوڑنا شعور کے واسطے سے بھی ضروری ہے۔ اور جب میں اس عمل سے گزرا تو بہت کچھ وراثت کا چھوڑنا پڑا اور اس میں اپنی سوچ وچار سے جوڑنا پڑا۔ تو چھوڑنے اور جوڑنے کے درمیان سے گزرنا جو ہے وہ شعور کا راستہ ہے۔" چھوڑے اور جوڑنے کے اس عمل سے ندا فاضلی کئی بار گزرے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ادبی دنیا میں ایک علیحدہ اور الگ مقام حاصل کیا۔ انھوں نے اس روایت کو بھی بدلنے کی کوشش کی کہ اگر کوئی آپ کا دشمن ہے تو اس سے دوری اختیار کیے رہیے۔ ندا فاضلی کا تو کہنا ہے کہ:

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ

دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیے

ندا فاضلی کی شاعری کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے اشعار میں سادہ زبان کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے، اور اس نے انھیں عام لوگوں میں بے پناہ مقبولیت عطا کی۔ کئی بار وہ سادہ بیانی کے ساتھ علامتوں کا استعمال کر کے بہت بڑی بات کہہ ڈالتے تھے۔ مثلاً ان کا ایک شعر ہے 'سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا/کھڑکی کے پردے کھینچ دیئے رات ہو گئی'۔ یہ شعر بالکل منفرد نوعیت کا ہے، حالانکہ کچھ تنازعات بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ویسے تنازعات تو ادباء کی زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور ندا فاضلی ان چیزوں کو پیچھے چھوڑ کر ہمیشہ آگے بڑھنے میں یقین کرتے رہے۔

ندا فاضلی عزائم سے بھرپور اور حوصلہ مند شخصیت تھے اور اس کا عکس تقسیم ہند کے بعد دیکھنے کو ملا جب ان کے والدین پاکستان ہجرت کر گئے۔ دراصل 65-1964 میں جو فرقہ وارانہ آگ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں پھیلی تھی، اس کا اثر گوالیر میں بھی دیکھنے کو ملا تھا۔ فرقہ واریت کے زہر کو دیکھتے ہوئے ندا فاضلی کے والدین نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا لیکن ندا نہیں گئے۔ انھوں نے تنہا ہندوستان میں رہنے کا ایک مشکل قدم اٹھایا اور پھر روزگار کے لیے کلکتہ، راجستھان، دہلی و ممبئی جیسی ریاستوں میں بھٹکتے رہے۔ ممبئی پہنچنے کے بعد انھیں ایک سکون حاصل ہوا اور پھر تاحیات وہیں قیام کیا۔ ممبئی نے ندا فاضلی کو بطور شاعر چمکنے اور نکھرنے کا خوب موقع بھی دیا کیونکہ ادبی دنیا کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا نے بھی انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔

شروع میں تو ندا فاضلی فلمی دنیا میں کچھ خاص نہیں کر سکے، لیکن 1980 میں ریلیز ہوئی فلم 'آپ تو ایسے نہ تھے' کے نغمہ 'تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے' کی کامیابی نے انھیں عروج کی پہلی سیڑھی پر چڑھا دیا۔ پھر اس کے بعد 'نذرانہ پیار کا' اور 'آہستہ آہستہ' جیسی فلموں میں بھی انھوں نے نغمہ نگاری کی۔ نغمہ 'کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا' (فلم آہستہ آہستہ) نے بھی ندا فاضلی کو بالی ووڈ میں پہچان دلائی۔ اس کے بعد 1983 میں جب کمال امروہی نے 'رضیہ سلطان' کے لیے نغمہ لکھنے کا موقع دیا تو پھر ندا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ فلم 'سرفروش' کے نغمہ 'ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے' اور فلم 'سُر' کے نغمہ 'آ بھی جا آ بھی جا، اے صبح آ بھی جا' نے پرانی اور نئی نسل دونوں کو متاثر کیا۔

یقیناً ندا فاضلی نے اردو ادب کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی نغمہ نگاری کو ایک نئی پہچان دی، لیکن اس بات کا اعتراف وہ بھی کرتے ہیں کہ فلمی نغموں کو تخلیقی ادب کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ "فلمی رائٹنگ کو ادب کے دائرے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اپنے لیے جو لکھا جاتا ہے، جسے تخلیقی ادب کہا جاتا ہے، اس میں رکاوٹ نہیں ہوتی، جبکہ فلموں کے لیے لکھتے وقت کچھ رکاوٹیں ہوتی ہیں۔" ہاں، یہ الگ بات ہے کہ کئی شعراء کے تخلیقی فن پاروں کو کچھ رد و بدل کے ساتھ یا پھر اسی شکل میں فلموں میں جگہ ملی ہے، اور اس فہرست میں ندا فاضلی کی ایک مشہور غزل بھی ہے جس کا ایک شعر ہے:

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

بہر حال، گوالیر کے وکٹوریہ کالج سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کرنے والے ندا فاضلی رہتی سانس تک اردو ادب کی خدمت کرتے رہے۔ انھوں نے شاعری میں سرخروئی تو حاصل کی ہے، نثر نگاری میں بھی ان کا مقام بہت اونچا ہے۔ معروف ادیب وارث علوی ایک جگہ پر لکھتے ہیں "تم (ندا) ان چند خوش قسمت لوگوں میں سے ہو جن کی شاعری اور نثر دونوں لوگوں کو رِجھا گئے ہیں۔" سچ تو یہ ہے کہ ادب کے طلباء کو ان کی شاعری کے ساتھ ساتھ نثر پر بھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ مقتدیٰ حسن سے ندا فاضلی بننے کا سفر اور پھر ان کے دنیائے فانی سے کوچ کرنے تک کی زندگی میں کئی نشیب و فراز آئے اور جہد مسلسل کی بے شمار داستانیں پوشیدہ ہیں جنھیں ایک مضمون میں سمونا ممکن نہیں۔ وہ ایک ایسے ادیب تھے جو بھلے ہی 8 فروری 2016 کو ابدی نیند سو گئے، لیکن اپنے لفظوں میں وہ تاقیامت زندہ رہیں گے۔ انھوں نے خود ہی کہا ہے:

لفظوں میں سانس لیتے ہیں، مرتے نہیں کبھی

اہل سخن جہاں سے گزرتے نہیں کبھی

Published: 12 Oct 2020, 12:11 PM
next