بابل سپریو: بڑے بے آبرو ہوکر... اعظم شہاب

اقتدار کا نشہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بی جے پی کے نام پر سپریو کو اب اقتدار ملنے سے رہا۔ اس لیے اب صرف ٹی ایم سی بچتی ہے جہاں ان کے لیے کچھ امید باقی ہے۔

بابل سپریو، تصویر آئی اے این ایس
بابل سپریو، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

ہندوی اساطیری کہانیوں میں راج پاٹ سے سنیاس کا تذکرہ ملتا ہے جس کی جھلک ہماری کچھ ہندی فلموں میں بھی دکھائی جاتی رہی ہے۔ اس کے مطابق کوئی راجا اپنی سلطنت اپنے کسی جانشین یا وفادار کے حوالے کرکے حکومت سے سبکدوشی کا اعلان کرتا تھا اور پھر وہ پہاڑوں یا جنگلوں میں جاکر عام آدمی کی مانند اپنی زندگی گزارنے لگتا تھا۔ لیکن آج کے دور میں چونکہ ہمارے سیاسی لیڈران بھی خود کو کسی راجا مہاراجا سے کم تصور نہیں کرتے اس لئے وہ بھی سیاست سے اپنی کنارہ کشی کو سنیاس ہی قرار دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا سنیاس اکثر وبیشتر مزید عوامی حمایت حاصل کرکے نئی سیاسی پارٹی کی شروعات یا پھر پرانی پارٹی چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونے کے لئے ہی ہوا کرتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات اپنے سیاسی حریفوں کو چیلنج کرنے کے لئے بھی سنیاس کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کی بہتیری مثالیں ہیں۔

اب یہی بی جے پی کے لیڈر اور سابق مرکزی وزیر بابل سپریو کو ہی لے لیجئے جنہوں نے نہ صرف عملی سیاست سے سنیاس لینے بلکہ اپنی پارلیمنٹ کی ممبری بھی تیاگ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے سنیاس لینے کا خوب چرچا ہے گویا وہ ہمالیہ جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ تو موٹے موٹے آنسو بھی رو رہے ہیں کہ ابھی تو ان کے کھیلنے کھانے کے دن تھے کیوں انہوں نے سنیاس کا اعلان کر دیا۔ لیکن جو لوگ مغربی بنگال سے اٹھنے والی سیاسی لہر کو محسوس کر رہے ہیں، انہیں اس میں ذرا بھی حیرت نہیں ہے۔ سچائی یہ ہے کہ بنگال میں بی جے پی کے چاروں خانے چت ہوجانے کے بعد بنگال کے بی جے پی لیڈروں کو اپنے سر سے آسمان غائب نظر آنے لگا ہے۔ مکل رائے نے عجلت دکھائی کہ اپنے سر پر دوبارہ ٹی ایم سی کا جھنڈا باندھ لیا، جبکہ ابھی بھی تین درجن سے زائد لیڈران موقع کے منتظر ہیں۔


سیاست دراصل ہے ہی موقع پرستی کا کھیل۔ موقع ملتے ہی وفاداری کے ساتھ نظریات بھی تبدیل ہوجانے کا خمیر ہمارے جمہوری طرزِ سیاست میں شامل ہے۔ اس لئے اب یہ کوئی عیب نہیں مانا جاتا اگر مکل رائے جیسے لوگ راتوں رات پارٹی تبدیل کرلیتے ہیں اور پھر راتوں رات گھر واپسی بھی کرلیتے ہیں۔ اگر بی ایس پی کے قدآور لیڈر سکھدیو راج بھر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ یوپی میں بی ایس پی کے دن لد گئے ہیں اور اپنے اکلوتے بیٹے کمل کانت راج بھر کو سماج وادی پارٹی میں شامل کروا کر سیاست سے سنیاس لینے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اگر بابل سپریو مرکزی وزارت سے بے دخل ہوکر بنگال میں خود کو یک وتنہا محسوس کرکے بغیر سیاست میں رہے عوامی خدمت کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ وہی بابل سپریو ہیں جو بنگال الیکشن کا نتیجہ آنے سے قبل بنگال کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اس کے لئے مودی، امیت شاہ و نڈا کو آمادہ تک کرلیا تھا، لیکن دیدی نے کچھ ایسی پٹخنی دی کہ وزیراعلیٰ بننا تو دور خود اپنی اسمبلی سیٹ بھی گنوا بیٹھے۔ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ آسنسول میں وہ بی جے پی کا کمل کچھ ایسا کھلائیں گے کہ بنگال میں دیدی کا کوئی نام لیوا ہی نہیں بچے گا، لیکن خود ٹالی گنج سے اسمبلی الیکشن 50 ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئے۔ اب اگر سپریو کا یہ خیال تھا کہ اسمبلی الیکشن ہارنے کے بعد بھی وہ مودی جی و امت شاہ کے منظورِ نظر ہی رہیں گے تو یہ ان کی بھول تھی۔ وہ پارٹی جو صرف الیکشن جیتنے اور نہ جیت پانے کی صورت میں جیتنے والوں کی خرید و فروخت پر ہی یقین رکھتی ہے، وہ بھلا ایک ہارے اور قسمت کے مارے ہوئے کو بھلا کیسے برداشت کرپاتی اور ایسی صورت میں کہ اس سے ریاستی صدر کے اختلافات بھی جگ ظاہر ہوں؟ اس لئے ان سے محض دو سال کے اندر ہی مرکزی وزارت واپس لے لی گئی۔


بابل سپریو کا سیاست سے سنیاس کا اعلان دراصل اقتدار میں رہنے کی ان کی ہوس کا نتیجہ ہے۔ کہاں تو وہ بنگال کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے تھے اور کہاں یہ کہ جو وزارت ان کے پاس تھی وہ بھی چلی گئی۔ ایسی صورت میں ان کی مجبوری تھی کہ وہ بی جے پی کو خیر باد کہہ دیں۔ لیکن پارٹی چھوڑنے کی کوئی معقول وجہ بھی تو ہونی چاہئے تھی اس لئے انہوں نے سیاست سے ہی سنیاس کا اعلان کر دیا۔ وگرنہ انہیں معلوم تھا کہ بنگال واپسی پر بی جے پی کے ریاستی لیڈر خاص طور سے دلیپ گھوش وغیرہ ان کا کیا حشرکرتے۔ اپنے سنیاس نامہ میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے اس کے حرف حرف سے ان کی حسرت جھلکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ فیس بک پوسٹ پر انہوں نے جس طرح ’چول لام ’اب چلتا ہوں‘ کہا ہے وہ ان کے اندر کی کسک کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ایک بات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھا وہ یہ کہ ’میں ٹی ایم سی، کانگریس یا سی پی آئی ایم میں نہیں جا رہا ہوں اور مجھے کسی نے فون بھی نہیں کیا۔

اب اس سے بڑی تضحیک اور کیا ہوسکتی ہے کہ جو شخص آسنسول جیسے حلقہ پارلیمنٹ سے دو بار الیکشن جیت چکا ہو، جو بنگال کا وزیراعلیٰ بننے کی تیاری میں تھا، جو مرکزی وزیر رہا ہو، اسے کسی نے پوچھا تک نہیں۔ یہ تو واقعی زیادتی ہے۔ کم ازکم سی پی آئی ایم والوں کو اتنی کشادہ قلبی دکھانی چاہئے تھی کہ اگر کہیں سرچھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے تو آؤ ہمارے پاس آجاؤ، لیکن انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ اقتدار کا نشہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بی جے پی کے نام پر تو انہیں بنگال میں اقتدار ملنے سے رہا۔ اس لیے اب صرف ٹی ایم سی بچی ہے جہاں انہیں امید کی کرن نظر آرہی ہے۔ اس لئے اگر وہ جلد یا بدیر ٹی ایم سی میں شامل ہو جائیں تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔