سبودھ ساقی: سب کی مانگے خیر ... معین شاداب

غزل کے ساتھ ساتھ نظم میں بھی سبودھ ساقیؔ کی خاص دلچسپی ہے بلکہ کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اظہار کے لیے غزل کی بہ نسبت نظم کو اپنے زیادہ نزدیک پاتے ہیں۔

سبودھ لال
سبودھ لال
user

معین شاداب

سبودھ لال ساقیؔ نے اپنی ذات کے حسن، فکر کی ندرت اور کمال فن سے حلقۂ دانشوراں میں جو شناخت قائم کی ہے وہ ان کے تعارف کے لیے کافی ہے۔ ان کی شخصیت کسی حوالے کی محتاج نہیں ہے۔ تاہم یہ بتانے سے ان کے تئیں احترام اور قدر میں یقیناً اضافہ ہوتا ہے کہ وہ معروف فارسی شاعری منشی ہرگوپال تفتہؔ کے خانوادے کے روشن چراغ ہیں۔ وہی منشی ہرگوپال تفتہؔ جنہیں مرزا غالب بے حد عزیز رکھتے تھے اور ’مکتوبات غالب‘ نے جنہیں امر کر دیا۔ سبودھ لال ساقیؔ کے والد ونودلال طالبؔ، منشی تفتہؔ کے پڑپوتے تھے۔ سبودھ لال نے ابتدا میں اپنے والد محترم سے ہی شاعری کے گر سیکھے، بعد میں وہ عالم فتح پوری کے شاگرد ہوگئے۔ ساقیؔ کی والدہ راجؔ پربھاکر ہندی اور سنسکرت کی اسکالر تھیں اور اپنی خاندانی روایات کے مطابق اردو سے بھی واقف تھیں۔ سبودھ لال پیدا تو راجستھان کے تاریخی شہر جودھ پور میں ہوئے لیکن ان کا شعری ذوق جس شہر میں پروان چڑھا، وہ تان سین کی دھرتی اور دعاء ڈبائیوی کا وطن گوالیار ہے جہاں ندا فاضلی کا بچپن گزرا۔

لوگ بتاتے ہیں کہ سبودھ ساقیؔ تیس، چالیس برس قبل ہندوستان بھر میں خوب مشاعرے پرھتے تھے۔ ان کے ترنم کی بڑی شہرت تھی۔ اوائل عمری ہی میں نہ صرف مشق سخن کرنے لگے تھے بلکہ مشاعروں میں بھی مدعو کئے جانے لگے تھے، لیکن مشاعروں سے ان کا تعلق رفتہ رفتہ کم ہوتا چلا گیا اور سبودھ لال ساقیؔ صرف سبودھ لال ہوکر رہ گئے۔ البتہ شاعری انھوں نے نہیں چھوڑی اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ حالانکہ مشاعروں سے علیحدگی کا سبب وہ مشاعروں کے گرتے معیار کو بھی بتاتے ہیں جہاں وہ اپنے ذوق کے معیار و وقار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ برس قبل ان کا شعری مجموعہ ’نمک‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ شاعری کی دو اور کتابیں منتظر اشاعت ہیں۔ ایک کتاب انھوں نے فہمیدہ ریاض پر بھی لکھی ہے۔ یہ بھی اشاعت کے مراحل میں ہے۔


سبودھ ساقیؔ کو گزشتہ پچاس، پچپن سال میں کی گئی شاعری کو محفوظ کرنے کا خیال آیا۔ ’نمک‘ اسی خیال کی عملی شکل ہے۔ یہ شعری مجموعہ غزلوں اور نظموں کا انتخاب ہے۔ حالانکہ انہوں نے گیت اور دوہے سمیت دیگر اصناف میں بھی اپنی طبع کو آزمایا ہے۔ لیکن یہ شاعری انھوں نے کسی اور وقت کے لیے بچا رکھی ہے۔ ہزاروں صفحات پر پھیلی سبودھ ساقیؔ کی شعری کائنات میں سے سوا سو کے آس پاس ان غزلوں اور نظموں کا انتخاب ناظم نقوی نے کیا ہے۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ بعض نظموں اور غزلوں کے مرکزی خیال پر مبنی تصویریں بھی ساتھ میں دی گئی ہیں جواُن کے بیٹے کبیر لال کے فن اور فکر کا نمونہ ہیں جبکہ کتاب کا سرورق ان کے بھائی آلوک لال کے تصور کا نتیجہ ہے۔

غزل کے ساتھ ساتھ نظم میں بھی سبودھ ساقیؔ کی خاص دلچسپی ہے بلکہ کہیں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اظہار کے لیے غزل کی بہ نسبت نظم کو اپنے زیادہ نزدیک پاتے ہیں۔ ’نمک‘ میں شامل 129 تخلیقات میں سے 69 نظمیں اور 60 غزلیں ہیں جو اس بات کی ثبوت ہیں۔


سبودھ ساقیؔ نے کتاب کے فلیپ پر اپنی ایک نظم شائع کی ہے۔ یہ نظم کتاب میں آخری صفحے پر شامل ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کتاب میں شامل نظموں کے علاوہ سبودھ ساقیؔ نے غزلوں کے عنوان بھی قائم کیے ہیں۔ کہیں ردیف و قافیہ اور کہیں کسی ٹکڑے اور مصرعے کو انھوں نے غزل کے عنوان کے طور پر استعمال کیا ہے۔ لیکن فلیپ پر جو نظم انھوں نے رکھی ہے اس کا کوئی عنوان نہیں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بلا عنوان نظم ان کی پوری شاعری کا ٹائٹل ہے: حالات/ امکانات/ جذبات، نفسیات/ جمالیات، ادبیات /روحانیت، رومانیت / تصورات، تجربات /تفکر،تصور/فلسفے، مسودے/ تمام، ناتمام/ نہ ابتدائ، نہ انتہا/آسمان ہی آسمان/اڑان ہی اڑان/تخلیقی بام/اور پر تولتا پرندہ/ میں اس نظم میں جتنے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں دراصل وہ سبودھ ساقیؔ کی شاعری کے سناپسس ہیں۔ ان ہی کیفیات اور علائم کی اساس پر ان کا تخلیقی قصر تعمیر ہوا ہے۔

اپنے شعری نظریے اور تخلیقی عمل کو انھوں نے اپنے پیش لفظ میں واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شاعری ان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا۔ اس کیفیت کی تائید ندافاضلی کے اس جملے سے ہوتی ہے جو اسی کتاب میں شامل مضمون ’بھیڑ سے الگ‘ میں انھوں نے لکھا ہے: ’’...وہ شعر عادتاً نہیں، بلکہ ضرورتاً کہتے ہیں۔ وہ شعر کہتے نہیں بلکہ شعر اُن سے اپنے آپ کہلواتا ہے‘‘۔


سبودھ ساقیؔ نے خود کو اپنے معاصرین سے مختلف رکھنے کے لئے اپنا دل اور اپنا ذہن خرچ کیا ہے، اپنی آنکھوں سے کام لیا ہے، خود کے ناک کان استعمال کیے ہیں۔ انھوں نے چیزوں کو اپنے حساب سے دیکھا، سمجھا اور پرکھا ہے۔ خیال کی نزاکت اور فکر کی گہرائی ان کے جذبوں کو شعریت عطا کرتی ہے۔ فہمیدہ ؔریاض نے اپنی تحریر میں سبودھ ساقیؔ کو اکیسویں صدی کا انسان اور اُن کی نظموں اور غزلوں کو آج کے دَور کی شاعری قرار دیا ہے۔

خیال و فکر میں ندرت کے علاوہ سبودھ ساقیؔ نے زبان و بیان کی سطح پر بھی تجربات کے خطرے مول لیے ہیں اور ہوش مند فنکار کو اس طرح کے تجربوں کا حق ہے۔ ان کی نظموں اور غزلوں پر دیر تک بات کی جاسکتی ہے لیکن سردست ان کے شعری احساس سے لطف اندوز ہونے کے لیے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:


اُدھر ہے آج شاید نیند کا رُخ

چلو، کروٹ بدل کر دیکھتے ہیں

میں دنیا کے برتاؤ سے گھبرایا ہوا سا

دنیا میرے برتاؤ سے گھبرائی ہوئی سی

لگتا ہے جلد چھوڑنا ہوگا یہ شہر بھی

آنے لگی ہے راس یہاں کی ہوا ذرا

میرے چشمے کا نمبر بڑھ گیا ہے

میں پہلے سے زیادہ دیکھتا ہوں

خود کو لٹکا چکا ہوں کتنی بار

میرے اندر ہے ایک ذاتی صلیب

کہاں گھر کوئی اپنا پھونکتا ہے

کبیر اب بھی بجریا میں کھڑا ہے

یہ شاعری اپنے اندرون کی سولی پرچڑھا ہوا آدمی ہی کرسکتا ہے۔ سبودھ ساقیؔ عہد حاضر کے وہ کبیر ہیں جو سب کی خیر مانگ رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔