مودی جی کا نیشن، اسرائیل کا پیگاسس اور 333 کروڑ کا بجٹ... اعظم شہاب

سائبر سکوریٹی ریسرچ ڈیولپمنٹ کا بجٹ 33 کروڑ سے بڑھا کر فی الفور 333 کروڑ تک پہنچنا، یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ یہ رقم کسی نہ کسی طور پر اسرائیل کی این ایس او تک پہنچی ہے جس سے پیگاسس کا سودا ہوا تھا۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

کہا جاتا ہے ہمارے پردھان سیوک جی جو کہتے ہیں اس کا الٹا ہو جاتا ہے۔ اب یہی دیکھئے انہوں نے کہا کہ ہم سالانہ دو کروڑ ملازمتیں دیں گے تو پتہ چلا کہ جو تھا اس میں بھی کمی آگئی۔ ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا تو معلوم ہوا کہ پٹرول و ڈیژل سیکڑے سے آگے کا جشن منا رہے ہیں۔ چین کو لال لال آنکھیں دکھانے کا اعلان کیا تو لداخ و اروناچل کے کئی کلومیٹر علاقوں پر چین نےمبینہ قبضہ کرلیا۔ فرمایا نہ ہماری چوکیوں پر کسی نے قبضہ کیا ہے اور نہ ہی ہمارے یہاں کوئی دراندازی ہوئی ہے، تو معلوم ہوا کہ لداخ کے گلوان وادی میں ہمارے 20 سے زائد فوجی جوان شہید ہوگئے۔ نوٹ بندی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بلیک منی اور دہشت گردی پر روک لگے گی تو خبر آئی کہ سوئس بینک میں ہندوستانیوں کی جمع رقم کئی گنا ہوگئی اور دہشت گردی کے واقعات نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ دعووں اور حقیقی واقعہ کے درمیان تضاد کی یہ فہرست کافی طویل ہے، اس لئے ہم یہیں پر اکتفا کرتے ہوئے پردھان سیوک جی کے ’نیشن فرسٹ آلویز فرسٹ‘ کی بات کرتے ہیں، جو انہوں نے گزشتہ کل اپنے من کی بات میں کہی ہے۔

جیسا کہ اسی کالم میں اس سے قبل عرض کیا گیا تھا کہ پردھان سیوک جی کوئی کام کریں نا کریں، لیکن ہر ماہ اپنے من کی بات نہایت پابندی سے کرتے ہیں۔ اسی پابندی کے تحت گزشتہ کل یعنی 25 جولائی کو انہوں نے اپنے 79ویں ’من کی بات‘میں ’نیشن‘ یعنی قوم کی بات کی۔ اس سے قبل کی اپنی تمام من کی باتوں میں وہ زیادہ تر اپنی اور اپنی حکومت کی حصولیابیوں کی باتیں کرتے رہے، مگراس بار انہوں نے نیشن کی بات کی۔ لیکن لفظ ’نیشن‘ کو اگر آپ ملک کے پیرائے میں لے رہے ہیں تو میرے خیال سے یہ پردھان سیوک کے مافی الضمیر کے ساتھ ناانصافی ہوگی، کیونکہ انہوں نے جس نیشن کی بات کی ہے اس سے مراد قوم ہے جسے ہندی میں راشٹر کہا جاتا ہے۔ یعنی کہ اپنے من کی بات میں انہوں نے راشٹر کے حوالے سے راشٹرواد کی بات کی، وہی راشٹرواد جس کا نشہ آج بھی سوشل میڈیا پر بہہ رہا ہے اور جو بیشتر اوقات انوراگ ٹھاکر و کپل مشرا کی شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ بہر حال انہوں نے راشٹر کو اولیت اور ہمیشہ اولیت دینے کی بات کی۔


لیکن جیسا کہ پہلے پیرا گراف میں عرض کیا گیا موصوف کے دعووں اور حقیقی واقعہ کے درمیان ہمیشہ تضاد پایا جاتا رہا ہے، اس لئے اگر یہ کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ پردھان سیوک جی کا نیشن دراصل ان کی حکومت کے پیرائے میں ہے؟ بہت ممکن ہے کہ آپ اسے زیادتی پر محمول کریں، لیکن اگر دو روز قبل کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کے اس انکشاف پر غور کرلیں جو انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہی ہے توصورت حال مزید واضح ہوجاتی ہے۔ پون کھیڑا کے مطابق جس سال سے ملک میں پیگاسس کی جاسوسی شروع ہوئی یعنی 2017-18 میں تو اس وقت قومی سلامتی کونسل سکریٹریٹ (این ایس سی ایس) میں سائبر سیکوریٹی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا ایک نیا شعبہ قائم کرکے اس کا بجٹ 33 کروڑ سے بڑھا کر 333 کروڑ کردیا گیا۔ جبکہ یہی شعبہ پہلے سے ہی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت کام کر رہا تھا اور اس کے لئے علاحدہ سے بجٹ بھی مختص کیا جاتا تھا۔ پھر اس سائبر سیکوریٹی کے شعبے کو این ایس سی ایس کے تحت لاکر اس کا بجٹ فی الفور تین سو کروڑ تک بڑھانے کی آخر کیا ضرورت آن پڑی؟ ظاہر ہے یہ 3 سو کروڑ روپئے کسی نہ کسی طور پر اسرائیل کی این ایس او تک پہنچا کر پیگاسس کا سودا کیا گیا۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ حکومت کسی بھی مد میں اگر کسی بجٹ کا اختصاص کرتی ہے تو وہ رقم حکومت کی نہیں بلکہ ملک کے ان کروڑہا لوگوں کی ہوتی ہے جو کسی نہ کسی طور پر اپنی محنت کی کمائی حکومت کی جھولی میں ٹیکس کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ اس لئے یہ تین سو کروڑ روپئے جو سائبر سیکوریٹی ریسرچ کے نام پر خرچ کی گئی وہ ملک کے ٹیکس ادا کرنے والوں کی تھی جسے ملک کے ہی لوگوں کی جاسوسی کے لئے خرچ کیا گیا۔ یہاں اگر یہ کہا جائے تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوگا کہ سائبر سیکوریٹی ریسرچ کا بجٹ اس لئے بڑھایا گیا تاکہ دہشت گردی پر قابو پایا جاسکے یا ملکی سلامتی کو مضبوط کیا جاسکے۔ کیونکہ جس وقت سے پیگاسس کی جاسوسی شروع ہوئی، اس کے بعد بھی دہشت گردی کے واقعات نہ صرف ہوتے رہے بلکہ اس میں اضافہ بھی نظر آیا۔ پلوامہ حملہ اس کی بدترین مثال ہے جس کے بعد سے اب تک مزید 22 جوان شہید ہوچکے ہیں اور 132 بار سیز فائر کے معاہدے ٹوٹے ہیں۔ اس لئے اب اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ پیگاسس کی جاسوسی دہشت گردی کو روکنے یا قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے تھی۔


اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پردھان سیوک جی نے اپنی من کی بات میں جس نیشن فرسٹ آلویزفرسٹ کی بات کی ہے وہ دراصل ہے کیا؟ ملک کی محبت کا شہد ٹپکنے والے اس جملے سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ ملک کا ہر شہری ملک سے محبت کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور ہمیشہ بنائے رکھے۔ ملک کا شاید ہی کوئی فرد ہو جو اس تصور سے انکاری ہو۔ ہر کوئی بلالحاظ مذہب ملک کی محبت کو اولین ترجیح دیتا ہے اس ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہے۔ لیکن پردھان سیوک جی نے اس کو اپنے مخصوص سیاسی پیرائے میں استعمال کرکے اس کی حرمت پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے پیرا گراف میں عرض کیا گیا پردھان سیوک کے دعووں اورحقیقی واقعہ میں ملک نے تضادات محسوس کیا ہے، تو کیا نیشن فرسٹ کا پروچن پردھان سیوک جی بالواسطہ اپنی حکومت کے پیرائے میں کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیوں نہ کہا جائے کہ پردھان سیوک جی نیشن فرسٹ تھا، فرسٹ ہے اور فرسٹ رہے گا، لیکن اگر اس نیشن کے لوگوں کا سرمایہ نیشن کے ہی لوگوں کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جائے گا تو یہ نیشن کے خلاف ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔