جسٹس عائشہ ملک پاکستان سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے سے محروم

جوڈیشل کمیشن کے 8 میں 4 اراکین جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود، سابق جج دوست محمد خان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے جسٹس عائشہ ملک کے تقرر کی مخالفت کی۔

جسٹس عائشہ ملک
جسٹس عائشہ ملک
user

یو این آئی

اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن پاکستان کے طویل اجلاس میں عدم اتفاق رائے کے باعث لاہور ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر موجود جسٹس عائشہ ملک کی بطور پہلی خاتون جج سپریم کورٹ میں ترقی کمیشن نے مسترد کر دی۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ بلڈنگ میں جوڈیشل کمیشن پاکستان کا اجلاس 4 گھنٹوں تک جاری رہا جبکہ قریب ہی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کمپلیکس میں وکلا کا احتجاج اور کنونشن جاری تھا جس میں انہوں نے سپریم کورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی میں عدلیہ پر جانبداری کا الزام لگایا جو اس کا تشخص خراب کر رہی ہے۔

جوڈیشل کمیشن کے 8 میں 4 اراکین جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود، سابق جج دوست محمد خان اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے جسٹس عائشہ ملک کے تقرر کی مخالفت کی جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے اس کی حمایت کی۔ جے سی پی کے ایک اور رکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کے علاج کے باعث بیرون ملک ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔


باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کی وجہ سے تعیناتی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیے بغیر ہی اجلاس ختم ہو گیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق اے جی پی اشتر اوصاف نے کہا کہ ’’حالانکہ یہ واضح انکار ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مستقبل میں اس تجویز پر غور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

پی بی سی کے نمائندے اختر حسین نے بھی فیصلے کو واضح انکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ججز کی ترقی میں سینئریٹی کے اصول پر عمل پیرا ہونے پر طویل غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ جسٹس عائشہ ملک، جو ایک جونیئر جج ہیں، ان کے بجائے پشاور ہائی کورٹ کی سینئرٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر موجود جسٹس مسرت ہلالی کو سپریم کورٹ کی خاتون جج بنانے پر غور کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پی بی سی کا مؤقف یہ تھا کہ خواتین کو ماتحت عدلیہ اور پانچوں ہائی کورٹس میں بڑی تعداد میں تعینات کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے سی پی کے آج کے فیصلے کو وکلا کی فتح نہیں بلکہ ججز تقرر میں سینئریٹی کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے ان کے مؤقف کی حمایت سمجھا جانا چاہیے۔


تاہم ایک سینئر وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چیف جسٹس کی تجویز منظور نہ ہوسکی جو ماضی کے معمولات کے برعکس ہے جب عموماً چیف جسٹس کی تجویز منظور کرلی جاتی تھی۔ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ 17 ججز کی اسامیوں کے باوجود سپریم کورٹ موجودہ 16 ججز کے ساتھ کام جاری رکھے گی، کیونکہ جمعرات کے واقعے کے بعد جے سی پی کا مستقبل قریب میں اجلاس نہیں ہو سکتا۔

دوران اجلاس اٹارنی جنرل نے تجویز پیش کی کہ جسٹس عائشہ ملک کی ترقی کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک مؤخر کیا جائے اور اس دوران چیف جسٹس، کمیشن کے آئندہ اجلاس میں تقرر کے لیے ہر ہائی کورٹ سے خاتون جج کے ناموں پر غور کر لیں تاہم ان کی تجویز پر غور نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے جوڈیشل کمیشن کے آئندہ اجلاس میں پانچوں ہائی کورٹس سے سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے نشستوں کی تعداد یا کوٹہ مختص کرنے پر غور کرنے کی بھی تجویز دی۔ ساتھ ہی کہا کہ کمیشن اس بات کا فیصلہ کرے کہ عدالت عظمیٰ میں کم از کم ایک نشست خاتون جج کی ہو جس میں مستقبل میں اضافہ کیا جا سکے۔


دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے دروازے کے باہر شاہراہ دستور پر احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا اور پھر ایس سی بی اے کمپلیکس کے عاصمہ جہانگیر آڈیٹوریم میں کنونشن منعقد کیا۔ احتجاج کرنے والے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بھی بائیکاٹ کیا اور عدلیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔