’ہاؤڈی مودی پر نمستے ٹرمپ بھاری پڑ گیا‘، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق نئی جانکاریوں پر جئے رام رمیش کا طنز

جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی برآمدات کو اب امریکہ میں پہلے کے مقابلے زیادہ محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’اتنی جھپیوں اور فوٹو-آپس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ نمستے ٹرمپ، ہاؤڈی مودی پر بھاری پڑ گیا۔ دوست، دوست نہ رہا!‘‘ یہ تلخ اور طنزیہ بیان آج کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری سوشل میڈیا پوسٹ میں دیا ہے۔ انھوں نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق کچھ نئی جانکاریاں سامنے آنے کے بعد یہ تبصرہ کیا ہے اور وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہند-امریکہ مشترکہ بیان میں کئی اہم باتیں ایسی ہیں، جو اب بھی واضح نہیں ہیں۔ لیکن جو معلومات سامنے آئی ہیں، وہ ہندوستان کے مفادات کے حوالہ سے تشویش پیدا کرنے والی ہیں۔

جئے رام رمیش کے مطابق اس معاہدہ کے بعد ہندوستان اب روس سے تیل درآمد نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر ہندوستان براہ راست یا بالواسطہ طور پر روس سے تیل خریدتا ہے تو اس پر 25 فیصد کا اضافی ٹیرف بطور سزا دوبارہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی توانائی سلامتی اور آزاد خارجہ پالیسی پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔


کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ اس تجارتی معاہدہ کے تحت ہندوستانی کسانوں کی قیمت پر امریکی کسانوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ ہندوستان امریکی زرعی مصنوعات کی درآمد پر محصولات میں بڑی کمی کرے گا، جس سے گھریلو کسانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جئے رام رمیش نے اسے زرعی شعبہ کے لیے ایک حساس مسئلہ قرار دیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاہدہ کے بعد امریکہ سے ہندوستان کی سالانہ درآمدات تقریباً 3 گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس سے اشیا کی تجارت میں ہندوستان کا طویل عرصہ سے چلا آ رہا سرپلس ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے اسے ہندوستانی معیشت کے لیے ایک منفی اشارہ بتایا۔

جئے رام رمیش نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں ہندوستان کے آئی ٹی اور دیگر خدماتی برآمدات کے حوالہ سے صورتحال واضح نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدہ میں سروسز شعبہ کے بارے میں کوئی ٹھوس ضمانت نظر نہیں آتی، جس سے ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں اور پیشہ وروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان قائم ہو گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی برآمدات کو اب امریکہ میں پہلے کے مقابلے زیادہ محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔