ہند- امریکہ تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری، زراعت اور ڈیری کے شعبوں میں نہیں ہوا کوئی معاہدہ
ہندوستان اور امریکہ نے عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری کر دیا ہے۔ امریکہ نے ہندوستانی اشیا پر ٹیرف کو 18 فیصد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر ٹیرف کم کرے گا۔

ہندوستان اور امریکہ نے جمعہ کے روز ایک عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری کردیا جس سے دونوں ممالک کے مابین جامع دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں نئی رفتار ملی ہے۔ یہ اعلان وسیع مذاکرات اور حالیہ ٹیرف کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے جس سے دونوں فریقوں کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نئی رفتار کا اشارہ ملتا ہے۔
اس سلسلے میں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ امریکہ اور ہندوستان اس فریم ورک کو تیزی سے نافذ کریں گے اور عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے کی سمت میں کام کریں گے تاکہ ایک باضابطہ طور سے باہمی فائدہ مند تجارتی معاہدہ (بی ٹی اے) کو مکمل کیا جاسکے۔ دونوں ممالک نے اسے اپنی شراکت داری میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔
مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کا فریم ورک جاری کرتے ہوئے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ وزیر اعظم مودی کی فیصلہ کن قیادت میں ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کے لیے مضبوط فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس سے ہندوستانی برآمد کنندگان خاص طور پر ایم ایس ایم ای، کسان اور ماہی گیروں کے لیے 30 ٹریلین ڈالر کی وسیع مارکیٹ کے دروازے کھلیں گے۔ برآمدات میں اضافے سے خواتین اور نوجونوں کے لیے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فریم ورک کے تحت امریکہ ہندوستانی اشیا پر باہمی محصولات کو 18 فیصد تک کم کرے گا، جس سے ٹیکسٹائل ملبوسات، چمڑے اور جوتے، پلاسٹک اور ربڑ کی مصنوعات، نامیاتی کیمیکل، گھر کی سجاوٹ، دستکاری، اور منتخب مشینری جیسے اہم شعبوں میں ہندوستانی مصنوعات کو زیادہ سے بڑے بازار تک رسائی حاصل ہوگی۔اس کے علاوہ جینیرک فارماسیوٹیکلس، جواہرات اور ہیرے (جیمس اینڈ ڈائمنڈس) اور ہوائی جہاز کے پرزوں سمیت کئی اشیائ پر ٹیرف صفر کئے جائیں گے جس سے ہندوستان کی برآمدی مسابقت اور میک ان انڈیا کو مزید مضبوطی ملے گی۔
پیوش گوئل نے کہاکہ یہ معاہدہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور دیہی معاش کو برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ حساس زرعی اور دودھ کی مصنوعات جیسے مکئی، گندم، چاول، سویا، پولٹری، دودھ، پنیر، ایتھنول (ایندھن)، تمباکو، بعض سبزیوں اور گوشت جیسے حساس زرعی اور ڈیری مصنوعا کو مکمل طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور امریکہ کو ہمارے اقتصادی تعاون کو گہرا کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد کرے گا، جو ہمارے شہریوں اور کاروبار کے لیے پائیدار ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
اس عبوری معاہدے سے قبل اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ ہندوستانی اشیا پر ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کے بدلے میں ہندوستان روسی تیل کی خریداری روک دے گا اور اپنی تجارتی رکاوٹیں کم کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب امریکہ سے 25 فیصد تعزیری ٹیرف خرید سکے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔