جب ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کی تفصیل سامنے آئے گی، تو ہندوستانی کسانوں کا خسارہ بھی ظاہر ہو جائے گا: کانگریس

جئے رام رمیش نے کہا کہ پیوش گویل کے بڑے بڑے دعوے پوری طرح ان باتوں کے برعکس ہیں، جو امریکہ کے صدر، امریکہ کی سکریٹری برائے زراعت اور امریکہ کے تجارتی نمائندہ نے کہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>جئے رام رمیش / تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ دنوں ہوئے تجارتی معاہدہ سے متعلق تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایک طرف برسراقتدار طبقہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہندوستانی کسانوں کے مفادات کو سامنے رکھ کر ہی معاہدے کے اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں، دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں اس معاہدہ کو مکمل طور پر کسان مخالف ٹھہرا رہی ہیں۔ خاص طور سے کانگریس امریکہ کی سکریٹری برائے زراعت بروک رولنس کے بیانات کا حوالہ دے کر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور جواب مانگ رہی ہے۔

ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے صنعت و کامرس پیوش گویل نے پارلیمنٹ میں اپنی بات رکھی، لیکن کانگریس اس سے مطمئن نظر نہیں آ رہی ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وزیر برائے صنعت و کامرس کے ذریعہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر پڑھا گیا بیان حقیقت میں کوئی بیان ہی نہیں تھا۔ اس میں کوئی تفصیل پیش نہیں کی گئی، کیونکہ ان پر اب بھی بات چیت جاری ہے۔‘‘


اس پوسٹ میں جئے رام رمیش نے بالکل واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’پیوش گویل کے بڑے بڑے دعوے پوری طرح ان باتوں کے برعکس ہیں جو امریکہ کے صدر، امریکی سکریٹری برائے زراعت اور امریکہ کے تجارتی نمائندہ نے اپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہی ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’یہ 100 فیصد واضح ہے کہ پیر کے روز وزیر اعظم کی گزارش پر تجارتی معاہدہ کا جو اعلان کیا گیا، وہ صرف سرخیاں بٹورنے کے لیے تھیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ ان کی طرف سے فوری اور لمحہ بھر کا ڈیمیج کنٹرول تھا۔‘‘

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ سے ہندوستانی کسانوں کو کتنا نقصان ہوگا، اس کے بارے میں صحیح جانکاری تبھی مل سکے گی، جب معاہدہ کے اصول و ضوابط اور دیگر تفصیلات سامنے آئیں۔ وہ سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’جب معاہدے کی پوری تفصیل سامنے آئے گی، تو ہندوستانی کسانوں کو ہونے والا حقیقی نقصان بہت دردناک طریقے سے صاف ہو جائے گا۔‘‘