ہند-امریکہ معاہدہ: جے رام رمیش کا حکومت سے سوال، ’کیا چھپا رہے ہیں وزیر اعظم مودی؟‘

جے رام رمیش نے کہا کہ ’اسپن ڈاکٹر‘ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن ابھی تک معاہدے کی ٹھوس تفصیلات نہیں ہیں، حالانکہ یہ واضح ہے کہ ہندوستان نے زرعی سامان کی درآمد کو آزاد کرنے کے لیے رعایتیں دی ہیں

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

 امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدے کے حوالے سے کانگریس مودی حکومت پر لگاتار حملہ آور ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے کانگریس حکومت سے وضاحت طلب کر رہی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے کو لے کر حکومت سے وابستہ لوگ چیزوں کو اپنے حساب سے پیش کرنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں لیکن اب تک اس معاہدے کی کوئی ٹھوس تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بدھ کے روز کہا کہ یہ صاف ہے کہ زرعی سامان کی درآمد کو آزاد بنانے کے لیے رعایتیں دی گئی ہیں۔ درحقیقت اس معاہدے کے حوالے سے مودی حکومت اور امریکہ کے دعوے مختلف ہیں۔

کانگریس لیڈر رمیش نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ یہ کہے جانے کے 36 گھنٹے گزرچکے ہیں کہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان وزیر اعظم مودی کی درخواست پر کیا گیا اور یہ فوری طور پر نافذ ہو رہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ’اسپن ڈاکٹر‘ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں لیکن ہمارے پاس ابھی تک معاہدے کی کوئی ٹھوس تفصیلات نہیں ہیں، حالانکہ یہ واضح ہے کہ ہندوستان نے زرعی سامان کی درآمد کو آزاد کرنے کے لیے رعایتیں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی مشترکہ بیان بھی جاری نہیں ہوا ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اس اعلان کو آگے بڑھایا۔ کیوں؟ اس کے کم از کم 3 اسباب ہیں۔ حالانکہ انہوں نے ان ’اسباب‘کی وضاحت نہیں کی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ تجارتی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ’میڈ ان انڈیا‘ مصنوعات پر امریکہ میں 25 فیصد کے بجائےاب 18 فیصد ٹیرف لگے گا۔ اس سلسلے میں تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے منگل کو کہا کہ دونوں ممالک ’جلد ہی‘ ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے جس میں معاہدے کی تفصیلات ہوں گی۔


دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے منگل کو کہا کہ ہندوستان نے روسی تیل کی خریداری کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے اہم امریکی شعبوں میں 500 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

کیرولین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صدر (ڈونالڈ ٹرمپ) نے ہندوستان کے ساتھ ایک اور بڑے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی سے براہ راست بات کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نہ صرف روس سے تیل کی خریداری بند کرنے کے لئے پرعزم ہے بلکہ امریکہ سے تیل خریدنے کے لئے بھی پرعزم ہے۔ ممکنہ طور پر وینزویلا سے بھی ج سے ہم جانتے ہیں کہ اب براہ راست امریکہ اور امریکی عوام کو فائدہ پہنچے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔