ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ: کسانوں کے مفادات پر سنگین خطرہ، نریش کمار کا انتباہ

دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں کی آمدنی، ایم ایس پی نظام اور غذائی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر نریش کمار / تصویر بشکریہ ایکس /&nbsp;DrNareshkr@</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کیے جا رہے تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملک کے کروڑوں کسانوں کے مفادات کو سنگین نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد امریکی کسانوں کی پیداوار کو ہندوستانی بازار میں فروخت کر کے دیہی امریکہ کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ہندوستانی کسانوں کا فائدہ کہاں ہے!

ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ ہندوستان کی زرعی معیشت بنیادی طور پر چھوٹے اور محدود وسائل رکھنے والے کسانوں پر مشتمل ہے، جب کہ امریکہ میں بڑی کارپوریٹ فارمز، بھاری سرکاری سبسڈی اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے زراعت کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہندوستان زرعی بازار کو امریکی مصنوعات کے لیے کھول دیا گیا تو یہ مقامی کسانوں کو غیر مساوی مسابقت میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔


انہوں نے خبردار کیا کہ سبسڈی یافتہ امریکی زرعی اجناس کی آمد سے ہندوستانی کسانوں کو اپنی فصلوں کا مناسب دام نہیں مل پائے گا، جس سے ان کی آمدنی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق سستے درآمدی سامان کے سبب کم از کم امدادی قیمت کا نظام بھی کمزور پڑ سکتا ہے اور کسانوں کے تحفظ کا ڈھانچہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی قرض اور بڑھتی لاگت سے پریشان چھوٹے اور محدود کسان اس معاہدے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

ڈاکٹر نریش کمار نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کا معاہدہ زراعت پر کارپوریٹ کنٹرول کو بڑھا سکتا ہے اور کاشت کاری آہستہ آہستہ کسانوں کے ہاتھ سے نکل کر بڑی کمپنیوں کے سپرد ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق درآمدات پر بڑھتی ہوئی انحصار سے ملک کی غذائی سلامتی اور خود کفالت کا تصور بھی کمزور ہوگا۔

انہوں نے مرکز حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی تمام شرائط فوری طور پر عوام کے سامنے رکھی جائیں اور واضح کیا جائے کہ آیا زرعی اور ڈیری شعبے کو امریکہ کے لیے کھولا جا رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اس سلسلے میں کسانوں اور ان کی تنظیموں سے کوئی مشاورت کی گئی ہے۔ دہلی کانگریس نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی تجارتی سمجھوتے میں ہندوستانی کسانوں کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔