کیا 'سب کا وشواس' پی ایم مودی کا ڈھونگ تھا؟ کانگریس کا بی جے پی لیڈروں سے چبھتا سوال

مہاراشٹر کانگریس کے جنرل سکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ اقتدارسے محرومی کے بعد سے اپنا ذہنی توازن کھوئے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی لیڈران کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔

کانگریس لیڈر سچن ساونت (تصویر سوشل میڈیا)
کانگریس لیڈر سچن ساونت (تصویر سوشل میڈیا)
user

یو این آئی

ممبئی: بی جے پی رکن اسمبلی اتل بھاتکھلکر کی جانب سے مہاراشٹر میں مدارس کو دی جانے والی امداد بند کرنے کے مطالبے پر کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری و ترجمان سچن ساونت نے سخت تنقید کی ہے اور سوال کیا ہے کہ کیا مودی کا 'سب کا وشواس' کا نعرہ محض ایک ڈھونگ تھا؟ زوم کے ذریعے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ساونت نے اسے بی جے پی کے ریاستی لیڈران کی ذہنی توازن کھودینے سے تعبیر کیا ہے۔

ساونت نے کہا کہ اقتدارسے محرومی کے بعد سے اپنا ذہنی توازن کھوئے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی لیڈران کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹر کی توہین کرنے والے بی جے پی لیڈران ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش میں اب اپنے ہی سینئرلیڈران کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں اور اس کوشش میں وہ سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی کی توہین کرنے تک پہونچ گئے ہیں۔

سچن ساونت نے اس سلسلے میں اپنی بات آگ بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کی تازہ مثال بی جے پی رکن اسمبلی اتل بھاتکھلکر کا یہ بیان ہے جس میں انہوں نے ریاست کے مدرسوں کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتل بھاتکھلکر کے اس مطالبے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مودی کا 'سب کا وشواس' کا نعرہ محض ایک ڈھونگ تھا؟ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا و ریاستی صدر چندرکانت پاٹل کو چاہیے کہ وہ اس کے ڈھونگ ہونے کا اعتراف کریں یا پھر اتل بھاتکھلکر کے خلاف کارروائی کریں۔

next