بلیا قتل واقعہ: بی جے پی رکن اسمبلی نے ملزم کے ساتھ کھڑا رہنے کا کیا اعلان!

بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے بلیا قتل واقعہ کے ملزم کے گھر پہنچ کر نہ صرف اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی بلکہ پھوٹ پھوٹ کر روئے اور اپنی طرف سے ہر ممکن تعاون کی امید دلائی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آصف سلیمان

اتر پردیش کے بلیا میں پولس و انتظامیہ کے تمام اعلیٰ افسران کی موجودگی میں ہوئے دردناک قتل واقعہ کے دو دن بعد بھی یو پی پولس ملزم کو گرفتار نہیں کر پائی ہے۔ لیکن قتل کے ملزم کو بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ کی کھلی حمایت جاری ہے۔ ہفتہ کے روز رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے ملزم کے گھر پہنچ کر اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس دوران وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ وہ اتنے پر ہی نہیں رکے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ ملزم کشتریہ ہے، اس لیے وہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھوں نے ملزم کا ہر حال میں ساتھ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اس سے قبل بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے بلیا میں نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارنے والے بی جے پی لیڈر دھریندر سنگھ کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف ان کا ہی نہیں، بی جے پی کا بھی قریبی معاون ہے، کیونکہ ان کے اہل خانہ نے ہمیں ووٹ دیا اور انھوں نے ہمارے لیے الیکشن میں کام کیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ "میں اس معاملے میں انتظامیہ کی یکطرفہ جانچ کی مذمت کرتا ہوں۔ واقعہ میں زخمی ہوئی چھ خواتین کے درد کو کوئی نہیں دکھا رہا ہے۔ دھیریندر سنگھ نے اپنی حفاظت میں گولی چلائی ہے۔"

غور طلب ہے کہ بلیا کے ریوتی تھانہ علاقہ واقع درجن پور گاؤں میں 15 اکتوبر کو پولس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں سرعام ایک شخص کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ واردات کو انجام اس وقت دیا گیا جب کوٹہ کی دکان کے لیے ایس ڈی ایم اور سی او کی موجودگی میں گاؤں میں میٹنگ چل رہی تھی۔ اس معاملے میں اہم ملزم بی جے پی لیڈر دھیریندر پرتاپ سنگھ ہے، جو فی الحال فرار ہے۔ دھیریندر پرتاپ سنگھ بلیا کے بیریا سے بی جے پی رکن اسمبلی سریندر سنگھ کا قریبی ہے۔

واضح رہے کہ ملزم بی جے پی لیڈر نے جسے سرعام گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا ان کا نام جے پرکاش عرف گاما پال تھا۔ گولی لگنے کے بعد جے پرکاش کی علاج کے لیے لے جاتے وقت موت ہو گئی۔ علاوہ ازیں واقعہ کے دوران اینٹ، پتھر اور لاٹھی و ڈنڈے چلنے سے تین خواتین سمیت 6 لوگ سنگین طور پر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے کمیونٹی ہیلتھ سنٹر سونبرسا میں داخل کرایا گیا تھا جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔ اس واقعہ سے بیک فٹ پر آئی یوگی حکومت نے ایس ڈی ایم، سی او سمیت 10 افسروں کو معطل کر دیا تھا۔

next