یو پی بجٹ اجلاس شروع، خوب ہوئی ہنگامہ آرائی، ایوان کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی

سماجوادی پارٹی اراکین اسمبلی نے ’کالا قانون واپس لو‘، ’جب سے بھاجپا سرکار آئی ہے-کمر توڑ مہنگائی ہے‘، ’مہنگا ڈیزل، مہنگی بجلی-بھاجپا سرکار نکلی نکلی‘ جیسے نعرے ایوان میں بلند کیے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

تنویر

آج سے اتر پردیش میں بجٹ اجلاس شروع ہو گیا، لیکن پہلا دن ایوان میں خوب ہنگامہ آرائی ہوئی۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ ایوان کی کارروائی تقریباً دو گھنٹے بعد کل یعنی 19 فروری کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ آج جب گورنر آنندی بین پٹیل بجٹ اجلاس کے دوران اپنی تقریر کے لیے کچھ تاخیر سے پہنچیں، تو کئی اراکین اسمبلی نے اس تاخیر پر اعتراض ظاہر کیا۔ آنندی بین پٹیل کی تقریر کے بعد اعتراض اس بات پر بھی کیا گیا کہ 200 کسانوں کی شہادت کا تذکرہ انھوں نے کیوں نہیں کیا۔

آج بجٹ اجلاس شروع ہوتے ہی سماجوادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔ انھوں نے ’کالا قانون واپس لو‘، ’جب سے بھاجپا سرکار آئی ہے-کمر توڑ مہنگائی ہے‘، ’مہنگا ڈیزل، مہنگی بجلی-بھاجپا سرکار نکلی نکلی‘ جیسے نعرے ایوان میں بلند کیے۔ سماجوادی پارٹی اراکین اسمبلی نے ہاتھوں میں حکومت مخالف سلوگن لکھی تختیاں بھی لی ہوئی تھیں۔


جہاں تک اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل کی تقریر کا سوال ہے، انھوں نے اس میں خصوصی طور پر رام مندر تعمیر کا تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت نے کورونا دور میں وزیر اعظم کے دست مبارک سے اور سادھو سنتوں کی موجودگی میں ایودھیا میں شری رام جنم بھومی پر عظیم الشان رام مندر تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا، جس کی سبھی نے تعریف کی۔ میں وزیر اعظم اور ملک کی عدلیہ کی شکرگزار ہوں۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ اس سال یوم جمہوریہ پر ایودھیا کی جھانکی کو پہلا مقام حاصل ہوا ہے۔ ایودھیا میں تین روزہ اور وارانسی میں دیو دیوالی کے موقع پر عظیم الشان دیپوتسو کا انعقاد بھی کامیابی کے ساتھ کیا گیا ہے۔‘‘

ایوان میں ہنگامہ کے پیش نظر جب ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی تو کانگریس لیڈر آرادھنا مشرا نے دوبارہ ایوان چلائے جانے اور گورنر کی تقریر دوبارہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اس درمیان یو پی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری نے کہا کہ دراصل عزت مآب (گورنر) نہیں آنا چاہتی تھیں، کیونکہ اس (تقریر) میں پڑھنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ وزیر اعلیٰ جی نے منایا تو عزت مآب تشریف لائیں۔ اپوزیشن کے ہنگامہ پر پارلیمانی امور کے وزیر سریندر کھنہ نے اعتراض ظاہر کیا اور یہ بھی کہا کہ اپوزیشن لیڈران ترقی مخالف اور خاتون مخالف ذہنیت رکھتے ہیں۔ اس پر رام گووند چودھری نے کہا کہ ’’ہم نے ڈیولپمنٹ کی نہیں، گورنر کے تاخیر سے آنے کی بات کہی ہے۔ ویسے ڈیولپمنٹ کہاں ہوا؟ شاید وزیر مالیات کے حلقے میں ترقی ہو گئی ہوگی۔‘‘


کانگریس قانون ساز پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ سوچا تھا گورنر تقریر کے شروع میں 200 شہید کسانوں کو خراج عقیدت پیش کریں گی۔ لیکن یہ حکومت بے حس ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ’’اناؤ میں بیٹیوں کے ساتھ دردناک واقعہ ہوا ہے۔ کانگریس نے آج گورنر کی تقریر پر احتجاج درج کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار گورنر کی تقریر ایوان میں تاخیر سے شروع ہوئی۔ حکومت ہر فیصلہ میں غیر سنجیدہ ہو چکی ہے۔‘‘

سماجوادی پارٹی لیڈر رام گووند چودھری نے ریاستی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کے دوران میڈیا کوریج پر پابندی لگائے جانے پر بھی سوال کھڑے کیے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’پریس گیلری سے پریس غیر حاضر کیوں ہے؟ کیا کووڈ-19 صرف صحافیوں کو متاثر کر رہا ہے؟ کیا یہ اراکین اسمبلی، وزراء، وزیر اعلیٰ، اسپیکر اور دیگر لوگوں کو متاثر نہیں کرتا ہے؟‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔