مرشد آباد: مغربی بنگال کے وزیر ذاکر حسین پر بم سے حملہ، ممتا بنرجی نے کہا مرکزی ادارہ جوابدہ

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ریلوے کے احاطہ کے اندر ہوا ہے، لہذا اس کے لیے مرکزی حکومت جوابدہ ہے۔ معاملہ کی تفتیش سی آئی ڈی کو سونپی گئی ہے۔

مغربی بنگال کے وزیر ذاکر حسین کی بم حملہ سے قبل کی تصویر / آئی اے این ایس
مغربی بنگال کے وزیر ذاکر حسین کی بم حملہ سے قبل کی تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرشد آباد: مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں نمتیتا ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے کیے گیے بم حملہ میں ریاست کے وزیر ذاکر حسین شدید طور پر زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ریلوے کے احاطہ کے اندر ہوا ہے، لہذا اس کے لیے مرکزی حکومت جوابدہ ہے۔ معاملہ کی تفتیش سی آئی ڈی کو سونپی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جس وقت بم حملہ ہوا اس وقت ریاست کے وزیر محنت ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر تقریباً 10 بجے کولکاتہ جانے والی ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ اس حملہ میں ذاکر حسین شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں جبکہ کم از کم دو دیگر افراد بھی حملہ میں زخمی ہوئے ہیں۔


وزیر ذاکر حسین کی صحت کی اطلاع دیتے ہوئے مرشد آباد میڈیکل کالج کے سپرنٹنڈنٹ امئے کمار بیرا نے بتایا کہ ذاکر حسین کی حالت مستحکم ہے اور وہ فی الحال خطرے سے باہر ہیں۔ ان کے ایک ہاتھ اور ایک پیر میں چوٹ آئی ہے۔ وزیر کو کولکتہ کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بنگال ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ذاکر حسین پر کیا گیا بم سے حملہ ایک سازش کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ذاکر حسین پر اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے دباؤ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ بم حملہ ریلوے احاطہ کے اندر ہوا ہے، لہذا اس کی جواب دہی مرکزی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔


وہیں، ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے حملہ کی مذمت کی ہے۔ پیوش گوئل نے کہا، ’’میں مغربی بنگال کے نمٹیٹا ریلوے اسٹیشن پر ہوئے بم حملہ کی مذمت کرتا ہوں۔ اس حملہ میں جو زخمی ہوئے ہیں ان کی جلد صحت یابی کے لیے میں دعا کرتا ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔