اناؤ: دو بچیوں کی موت کے بعد یوگی حکومت پر پھر اٹھے سوال، راہل-پرینکا حملہ آور

پرینکا گاندھی نے فیس بک وال پر لکھا کہ اناؤ کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ لڑکیوں کے اہل خانہ کی بات سننا اور تیسری بچی کو فوری بہتر علاج ملنا، تفتیش اور انصاف کے عمل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اناؤ: یوپی کے اناؤ میں ایک کھیت سے دو نابالغ لڑکیوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد ہڑکمپ مچ گیا ہے۔ خیال رہے کہ اسوہا تھانہ علاقہ کے ببروہا گاؤں میں ایک کھیت سے تین بچیاں بیہوشی کی حالت میں پائی گئی تھیں، جن میں سے دو کی موت ہو چکی ہے۔ اس معاملہ پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ متاثرہ کنبے کو نظر بند کر دیا گیا ہے اور یہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پرینکا گاندھی نے یوپی حکومت سے گزارش کی ہے کہ تیسری بچی کو علاج کے لیے دہلی منتقل کیا جائے۔ خیال رہے کہ مویشیوں کے لیے چارہ لینے گئی بچیاں ایک کھیت سے برآمد ہوئی ہیں، جن میں سے دو کی موت واقع ہو چکی ہے، جبکہ تیسری کی حالت نازک ہے۔ اسے مقامی اسپتال میں علاج کے لیے لے جایا گیا تھا لیکن حالت میں بہتری نہ ہونے کے سبب اسے کانپور ریفر کیا گیا ہے۔


کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے اپنی فیس بک وال پر لکھا، ’’اناؤ کا واقعہ دل دہلا دینے والا ہے۔ لڑکیوں کے اہل خانہ کی بات سننا اور تیسری بچی کو فوری طور پر بہتر علاج ملنا، جانچ پڑتال اور انصاف کے عمل کے لیے بے حد ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے مزید لکھا، ’’اطلاعات کے مطابق متاثرہ کنبہ کو نظربند کیا گیا ہے۔ یہ انصاف کی راہ میں رخنہ ڈالنے والا کام ہے۔ آخر کنبے کو نظر بند کرکے حکومت کو کیا حاصل ہوگا۔ یوپی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ کنبہ کی پوری بات سنے اور فوری اثر سے تیسری بچی کو علاج کے لئے دہلی منتقل کیا جائے۔‘‘


اس معاملہ پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’صرف دلت سماج کو ہی نہیں بلکہ یوپی حکومت خاتون کے وقار اور انسانی حقوق کو بھی کچلتی جا رہی ہے۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ میں اور پوری کانگریس پارٹی متاثرین کی آواز بن کر کھڑے ہیں اور انصاف دلا کر ہی رہیں گے۔‘‘

ادھر، دو بچیوں کی موت ہو جانے کی وجہ سے گاؤں میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ گاؤں میں احتیاط کے طور پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ معاملہ کی تفتیش کے لیے پولیس کی چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ وہیں، متاثرہ کنبہ نے سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 18 Feb 2021, 12:43 PM