’کسان تحریک کو ہلکے میں نہ لیں‘ امریندر سنگھ کا مرکز کو انتباہ

کسانوں کے دھرنے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد امریندر سنگھ نے ٹوئٹ کیا اور اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ / تصویر آئی اے این ایس
وزیر اعلیٰ پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چنڈی گڑھ: وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے گزشتہ روز راجدھانی چنڈی گڑھ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پر پہنچے اور کسانوں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے مرکزی حکومت کو متنبہ کیا کہ کسانوں کی تحریک کو ہلکے میں نہ لیں۔ کسانوں کے دھرنے کے مقام کا دورہ کرنے کے بعد امریندر سنگھ نے ٹوئٹ کیا اور اپنی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کی اپیل کی۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا، "تمام عمر کے افراد ان کسان مخالف قوانین کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاج کر رہے ہیں۔ آج شام پنجاب کی راجدھانی چنڈی گڑھ کے مٹکا چوک پر کچھ شہریوں کے ساتھ میں اس میں شامل ہوا۔ میں دوبارہ مرکز سے درخواست کرتا ہوں کہ حکومت اس احتجاج کو ہلکے میں نہ لے اور ان قوانین کو منسوخ کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔ "


پنجاب میں کسان کئی ماہ سے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں ریاست کے ہزاروں کسانوں نے دہلی تک مارچ نکالا تھا۔ پنجاب کے علاوہ دیگر ریاستوں کے کسانوں خصوصاً اترپردیش اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کسان بھی اس تحریک سے وابستہ ہیں اور وہ ڈھائی مہینوں سے دہلی کی تینوں سرحدوں- سنگھو، ٹیکری اور غازی آباد بارڈر پر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

چالیس کسان تنظیموں کی سربراہی میں تحریک چلا رہے کسان مرکزی حکومت سے تینوں نئے قوانین کو واپس لینے اور ایم ایس پی کو قانونی جامہ پہنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسانوں کو خوف ہے کہ نئے زرعی قانون کی مدد سے کارپوریٹ ہاؤس ان کا استحصال کریں گے اور ایم ایس پی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کسان تحریک کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔