مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کو ’یکجا‘ کرنے کے لیے سونیا گاندھی کی میٹنگ آج

میٹنگ میں کانگریس کے علاوہ ٹی ایم سی، این سی پی، شیوسینا، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، نیشنل کانفرنس، سی پی ایم، سی پی آئی جیسی پارٹیوں کے لیڈران شرکت کر سکتے ہیں۔

سونیا گاندھی، تصویر@INCIndia
سونیا گاندھی، تصویر@INCIndia
user

تنویر

مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن پارٹیاں لگاتار آواز اٹھا رہی ہیں، لیکن ان سبھی اپوزیشن پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور مودی حکومت کے خلاف مشترکہ پالیسی تیار کرنے کے مقصد سے کانگریس صدر سونیا گاندھی 20 اگست کو انتہائی اہم میٹنگ کرنے والی ہیں۔ اس میٹنگ میں سبھی اہم اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران شریک ہوں گے اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپوزیشن پارٹیوں کی یہ میٹنگ جمعہ کی شام کو طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں شرد پوار، ممتا بنرجی، ادھو ٹھاکرے، ایم کے اسٹالن، ہیمنت سورین جیسے بڑے لیڈران شامل ہوں گے۔ میٹنگ شام 4 بجے شروع ہوگی جس سے سبھی لیڈران ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جڑیں گے۔ کانگریس کی طرف سے سونیا گاندھی کے علاوہ راہل گاندھی بھی اس میٹنگ میں موجود رہ سکتے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ختم ہوئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران مودی حکومت کو گھیرابندی کرنے میں اپوزیشن پارٹیاں متحد نظر آئی تھیں، اس لیے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ سونیا گاندھی کے ذریعہ طلب کی گئی میٹنگ میں مودی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق میٹنگ میں پیگاسس جاسوسی واقعہ، کورونا وبا کے دوران ہوئی بدانتظامی، کسان تحریک اور افغانستان سے متعلق حالات کو لے کر سرکردہ لیڈران گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 2024 لوک سبھا الیکشن اور اس سے قبل آنے واے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی مخالف محاذ کو لے کر اپوزیشن لیڈروں کا کیا نظریہ سامنے آتا ہے۔ گزشتہ مہینے کے آخر میں اپنے دہلی دورے کے دوران ممتا بنرجی نے بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کو ضروری بتایا تھا۔

بہر حال، کانگریس کی طرف سے میٹنگ میں شرکت کے لیے کن پارٹیوں کو مدعو کیا گیا ہے، اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں پیش کی گئی ہے۔ حالانکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 چھوٹی بڑی پارٹیوں کے لیڈران اس میٹنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ کانگریس کے علاوہ ٹی ایم سی، این سی پی، شیوسینا، ڈی ایم کے، سماجوادی پارٹی، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، راشٹریہ جنتا دل، نیشنل کانفرنس، سی پی ایم، سی پی آئی، جنتا دل سیکولر جیسی پارٹیوں کے لیڈران اس میٹنگ میں موجود رہیں گے۔ بی ایس پی اور عام آدمی پارٹی ہر بار کی طرح اس بار بھی اپوزیشن پارٹیوں کی اس میٹنگ سے دور رہ سکتی ہیں۔


سونیا گاندھی کے ذریعہ جمعہ کو ہونے والی میٹنگ کے تعلق سے کانگریس جنرل سکریٹری طارق انور کا کہنا ہے کہ ’’خصوصی طور پر اپوزیشن کے اتحاد کی بات میٹنگ میں کی جائے گی۔ اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس طرح مشترکہ پالیسی بنائی جائے۔ اپوزیشن اس ملک میں آنے والے وقت میں ایک مضبوط متبادل تیار کرنا چاہتا ہے۔ لوگ موجودہ حکومت اور اس کی پالیسیوں سے پریشان ہیں اور انھیں متبادل کی تلاش ہے۔ 2004 میں سونیا جی نے پہلے بھی یو پی اے بنا کر ایک متبادل ملک کو دیا تھا، ٹھیک اسی طرح سے پھر ایک متبادل بنانے کی ضرورت ہے۔ ہر اس سمت میں سونیا جی قدم آگے بڑھا رہی ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 Aug 2021, 11:11 PM