طالبان کو نہیں، جتنا کوسنا ہے امریکہ کو کوسیے

یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے کہ طالبان کو پیدا کر کے اس کی نشو و نما کرنے والا ملک امریکہ ہی ہے اور پاکستان کی اس میں مدد شامل حال رہی ہے۔

طالبان لیڈروں کی فائل تصویر
طالبان لیڈروں کی فائل تصویر
user

سید خرم رضا

افغانستان میں اچانک جو کچھ ہوا اس پر پوری دنیا کو حیرانی کے ساتھ ساتھ یقین بھی نہیں آیا۔ افغانستان میں جس طرح بغیر کسی مزاحمت کے طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے اور محل میں رہنے والے افغان صدر اشرف غنی وہاں سے فرار ہو گئے اس پر یقین ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ کابل کے اس واقعہ کے بعد پوری دنیا کا جو رد عمل سامنے آیا اس سے ہر ذی شعور شخص کا خوفزدہ ہونا لازمی تھا۔ طالبان کے کابل پر قبضہ تک کہیں سے کوئی خون خرابہ کی خبر نہیں آئی اور نہ ہی کوئی ایسی بڑی خبر آئی کے طالبان نے کہیں فائرنگ کی ہو یا جس کے لئے وہ بدنام ہیں کہ کہیں خواتین کے ساتھ کوئی زیادتی یا ان کی بے حرمتی کی ہو۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا کہ کسی کو یقین ہی نہیں آیا۔

طالبان کی جو شبیہ دنیا کے سامنے ہے اس کی وجہ سے افغانستان کے بڑے شہروں میں خوف پھیل گیا اور لوگ صدر کی طرح ملک چھوڑ نے کی کوشش کرنے لگے جس کے نتیجے میں کابل کے ہوائی اڈے پر کچھ لوگوں کی اس لئے جان چلی گئی کیونکہ وہ ملک چھوڑنے کے لئے ایک جہاز میں لٹک گئے، اور متعدد لوگوں کی بھگدڑ میں موت ہو گئی۔ ابھی تک جو خبریں موصول ہو رہی ہیں اس میں کہیں سے یہ خبر نہیں آئی ہے کہ طالبان نے فائرنگ کی ہو یا زیادتی کی ہو، لیکن خوف پوری دنیا میں زبردست ہے اور اس کی وجہ ان کی شبیہ ہے۔ آج وہ خود کو کتنا بھی بدلا ہوا دکھانے کی کوشش کریں لیکن ان کی شبیہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتی۔


ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کن کن ممالک نے افغانستان میں جارحیت کی، ظاہر شاہ کے دور میں کیا ہوا، سوویت یونین نے کیا کیا، اور اس کو افغانستان سے باہر نکالنے کے لئے کن ممالک نے کیا کچھ کیا، نجیب اللہ کا حشر کیا ہوا، طالبان کس نے اور کیسے بنائی، ملا عمر، صبغت اللہ مجددی، گلبدین حکمت یار کہاں گئے۔ لیکن ابھی گفتگو کو موجودہ حالات تک محدود رکھتے ہیں۔

بیس سال سے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی افواج موجود تھیں اور ان کی سرپرستی میں ہی وہاں کی حکومت چل رہی تھی۔ امریکہ نے کئی مرتبہ اپنی فوج کے انخلاء کی بات کہی لیکن حالات کی وجہ سے کبھی اس پر عمل نہیں ہوا۔ امریکہ کے اندر یہ سوال تھا کہ ان کے فوجی دوسروں کی جنگ کب تک لڑتے رہیں گے اور یہ سوال دھیرے دھیرے عوامی غصہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ اس کی روشنی میں اور افغانستان کے حالات بہتر ہوتے دیکھ امریکہ نے اپنی فوج واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ افغان فوج کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے اور اس کی تربیت امریکی کمانڈروں کے ذریعہ ہوئی ہے۔ جبکہ کہا یہ جاتا ہے کہ طالبان افواج کی تعداد 80 ہزار ہے اور وہ زیادہ تربیت یافتہ نہیں ہیں۔


ان باتوں کو زیادہ تر لوگ جانتے ہیں لیکن یہ بات عام لوگوں کو نہیں معلوم تھی کہ تین لاکھ کی تربیت یافتہ فوج 80 ہزار کی غیر تربیت فوج کا سامنا کئے بغیر ہتھیار ڈال دے گی اور ملک کا صدر ملک چھوڑ کر فرار ہو جائے گا۔ ان حالات پر غور کیا جائے تو دو وجہ نطر آتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ افغان فوج کی ہمدردی طالبان کے ساتھ تھی اور جیسے ہی غیر ملکی افواج نے ملک چھوڑا ویسے ہی ان افواج نے طالبان کے لئے راستہ ہموار کر دیا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ نے اپنی فوج کے بل بوتے پر طالبان کو دور رکھ کر اقتدار اپنی مرضی کے لوگوں سے چلوایا اور افغان فوجیوں سے صرف گارڈ کا کام کرایا اور اسی کی تربیت دی۔ وجہ کوئی بھی ہو لیکن امریکہ یا تو پوری طرح ناکام رہا یا پھر جو کچھ ہو رہا ہے اس کی مرضی کے مطابق ہو رہا ہے۔

افغانستان کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اور امریکہ کی طاقت کو نظر میں رکھتے ہوئے امریکہ کے ناکام ہونے کی خبر ہضم نہیں ہو رہی۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج جو کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے جس پر کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، وہ بغیر امریکہ کی مرضی کے نہیں ہو سکتا۔ کیا امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں اتنی ناکارہ ہیں کہ ان کے یہ علم میں ہی نہ ہو کہ ان کے جانے کے بعد افغانستان میں کیا ہوگا، طالبان اتنی آسانی سے پورے افغانستان پر قابض ہو جائیں گے اور مغربی ممالک کی کئی دہائیوں کی محنت پر پانی پھر جائے گا۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ یہ بھی سوچنا غلط ہے کہ امریکہ افغانستان سے چلا گیا ہے، اس کی افواج گئی ہیں لیکن حکومت اس کی مرضی کی ہی رہے گی تاکہ اس کے اقتصادی مفادات قطعاً متاثر نہ ہوں۔ پرانی شبیہ کو دکھا کر ڈراتے ہوئے طالبان کی نئی شبیہ بنانے کی کوشش اسی جانب اشارہ ہے۔ یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے کہ افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکہ کی مرضی کا ہی ہو رہا ہے۔ چلتے چلتے یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے گا کہ طالبان کو پیدا کر کے اس کی نشو و نما کرنے والا ملک امریکہ ہی ہے اور پاکستان کی اس میں مدد شامل حال رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔