'پی ایم کسان سمّان یوجنا' میں 110 کروڑ کا گھوٹالہ، کئی افسران معطل

گھوٹالہ معاملہ میں 18 ایجنٹوں کو گرفتار کر کسانوں سے جڑے منصوبوں میں شامل 80 افسران کو ہٹا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً 34 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

'پردھان منتری کسان سمّان ندھی یوجنا' میں 110 کروڑ روپے کا گھوٹالہ منظر عام پر آیا ہے۔ تمل ناڈو میں افسران، مقامی لیڈروں اور دلالوں کی ملی بھگت سے اس پورے کھیل کو انجام دیا گیا جس کا انکشاف اب ہوا ہے۔ اندازے کے مطابق ملک میں کورونا بحران آنے کے بعد تمل ناڈو میں تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں کو اس منصوبہ میں جوڑا گیا، جس میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جو اس منصوبہ کے لیے اہل نہیں تھے۔ کورونا بحران کے سبب لگے لاک ڈاؤن میں حکومت نے منصوبہ کے کلیئرنس میں کچھ سہولت فراہم کی تھی، جس کا فائدہ اٹھا کر آن لائن دھوکہ دہی کے ذریعہ یہ فرضی واڑا کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پورے گھوٹالہ کے بارے میں بتاتے ہوئے پرنسپل سکریٹری گگن دیپ سنگھ بیدی نے کہا کہ اگست میں تمل ناڈو میں بڑی تعداد میں نااہل لوگوں کے ذریعہ اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اچانک اگست مہینے میں پردھان منتری کسان سمّان ندھی یوجنا کے 45 لاکھ فائدہ کنندگان ہو گئے جن کی تعداد مارچ 2020 میں 39 لاکھ تھی۔

گگن دیپ سنگھ نے بتایا کہ جانچ کے بعد اس معاملے میں 18 ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ کسانوں سے جڑے منصوبوں کو عمل درآمد کرانے میں شامل 80 افسران کو ہٹا دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں تقریباً 34 افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان معطل افسران میں محکمہ زراعت کے تین اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی گھوٹالے کے 110 کروڑ روپے میں سے 32 کروڑ روپے واپس حاصل کر لیے گئے ہیں۔ زیادہ تر رقم سیدھے بینک اکاؤنٹ سے واپس کی گئی ہیں۔ حکومت کو اگلے 40 دن میں بچی ہوئی رقم کی واپسی کی امید ہے۔

گگن دیپ سنگھ بیدی نے کہا کہ ابھی اس معاملے میں مزید گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس گھوٹالے کے لیے دیہی علاقوں میں کمپیوٹر سنٹرس کے ذریعہ سے ایک کرائم سنڈیکیٹ چل رہا تھا۔ دلالوں نے دیہی عوام سے سارے کاغذات لے کر انھیں افسروں سے پی ایم کسان منصوبہ کے تحت منظور کرا لیا۔ یہ وہی وقت تھا جب کورونا بحران کے سبب ضلع انتظامیہ کورونا وبا کی روک تھام کی تدبیر کرنے میں مصروف تھا۔ اس سے پہلے کلکٹر فائدہ اٹھانے والوں کے نام کو ان کی زمینی ریکارڈ اور راشن کارڈ چیک کر کے منظوری دیتے تھے۔

خبروں کے مطابق اس گھوٹالے کے زیادہ تر معاملے کلّاکریچی، کڈّالور، سلیم، دھرم پوری، کرشناگری، ویلور، ترووَنّاملائی سمیت 13 اضلاع سے سامنے آئے ہیں۔ جانچ میں پتہ چلا کہ اس دوران دیگر 25 اضلاع سے کچھ ہی فائدہ کنندگان کو اس منصوبہ کی فہرست میں جوڑا گیا۔ شروعاتی جانچ میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ لسٹ میں جوڑے گئے بہت سے نااہل لوگوں کو اس کے بارے میں جانکاری ہی نہیں تھی۔ انھیں دلالوں نے حکومت کی 'کورونا کیش' نامی منصوبہ سے مدد دلانے کا بھروسہ دلا کر ان کی تفصیل لے لی اور پھر آسانی سے گھوٹالہ کو انجام دے دیا۔

اس گھوٹالہ کے سامنے آنے کے بعد تمل ناڈو کی حکومت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سب سے زیادہ نشانے پر خود وزیر اعلیٰ پلانی سامی ہیں کیونکہ سب سے زیادہ فرضی معاملے ان کے آبائی ضلع سلیم سے سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں اپوزیشن پارٹی ڈی ایم کے لیڈر ایم کے اسٹالن نے برسراقتدار پارٹی پر گھوٹالے کو انجام دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسٹالن نے کہا کہ اس گھوٹالے میں سامنے آئے سب سے زیادہ نااہل فائدہ کنندگان کا وزیر اعلیٰ پلانی سامی کے آبائی ضلع سلیم سے ہونا کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔

next