کنگنا کی حمایت میں اترے سادھو-سنت، ادھو ٹھاکرے سے کہا ایودھیا میں قدم نہ رکھیں ورنہ...

مہنت نریندر گری کا کہنا ہے کہ "کنگنا بہادر بیٹی ہیں جنھوں نے بالی ووڈ کے مافیاؤں اور ڈرگ مافیاؤں کے ریکٹ کا بھنڈاپھوڑ کیا۔ اس سے بالی ووڈ کے مافیا ڈر گئے ہیں اور حکومت کے بھی قدم اکھڑ رہے ہیں۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت اور شیوسینا کے درمیان تنازعہ دن بہ دن طول پکڑتا جا رہا ہے۔ بی ایم سی کے ذریعہ دفتر کا ایک حصہ توڑے جانے سے ناراض کنگنا جہاں اُدھو کے خلاف سخت تیور اختیار کیے ہوئی ہیں، وہیں ایودھیا کے سادھو-سنت بھی ان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے ہیں اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کئی سنتوں، خصوصی طور پر وشو ہندو پریشد سے جڑے لوگوں نے ادھو ٹھاکرے کی مخالفت شروع کر دی ہے اور انھیں متنبہ کیا ہے کہ وہ ایودھیا میں قدم نہ رکھیں، کیونکہ یہاں ان کا استقبال کرنے کی جگہ خلاف میں نعرے لگیں گے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے سربراہ مہنت نریندر گری نے بھی کنگنا رناوت کے حق میں اپنی آواز بلند کر دی ہے۔ انھوں نے کنگنا کو ہندوستان کی بیٹی قرار دیتے ہوئے اُدھو ٹھاکرے کو ایودھیا نہ آنے کی دھمکی دی۔ نریندر گری نے کہا کہ "کنگنا بہادر اور ہمت والی بیٹی ہیں جنھوں نے بالی ووڈ کے مافیاؤں اور ڈرگ مافیاؤں کے ریکٹ کا بھنڈاپھوڑ کیا ہے۔ اس سے نہ صرف بالی ووڈ کے مافیا ڈر گئے ہیں بلکہ حکومت کے بھی قدم اکھڑ رہے ہیں۔"

مہنت نریندر گری نے تو اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ "کنگنا کی حق بیانی کو دبانے کے لیے ادھو ٹھاکرے حکومت نے کنگنا کے دفتر پر بلڈوزر چلوایا ہے اور بدلے کی کارروائی کی ہے، حالانکہ مہاراشٹر ہائی کورٹ نے کنگنا کو راحت دیتے ہوئے توڑ پھوڑ کی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔"

دوسری طرف ہنومان گڑھی مندر کے پجاری مہنت راجو داس نے بھی کنگنا کی حمایت اور ادھو کی مخالفت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ادھو ٹھاکرے یا شیوسینا کا کوئی بھی لیڈر ایودھیا میں آیا تو ان کی مخالفت ہوگی۔ سنت ان کی کرتوت کے خلاف ہیں۔ بی ایم سی نے کنگنا کا دفتر توڑ کر اچھا نہیں کیا۔" انھوں نے مزید کہا کہ "حکومت نے بغیر وقت دیے کنگنا کا دفتر گرا دیا اور پالگھر میں سادھوؤں کے قتل معاملہ میں کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔" مہنت کنہیا داس نے بھی ادھو ٹھاکرے کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ "ادھو ٹھاکرے کا ایودھیا میں اب استقبال نہیں ہوگا۔ یہ شیوسینا اب وہ نہیں رہی جو کبھی بالا صاحب ٹھاکرے کے زمانے میں ہوا کرتی تھی۔"

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 11 Sep 2020, 5:11 PM