ہاتھرس واقعہ: چارج شیٹ کو پرینکا گاندھی نے بتایا ’سچ کی جیت‘

ہاتھرس اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملہ میں سی بی آئی نے جمعہ کو ہاتھرس کورٹ میں چارج شیٹ داخل کر دی۔ سی بی آئی نے متاثرہ کے اس بیان کی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کی جس میں 4 لوگوں پر الزام لگائے گئے تھے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آصف سلیمان

اتر پردیش کے مشہور ہاتھرس اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملہ میں سی بی آئی کے ذریعہ چارج شیٹ داخل کیے جانے کو کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے سچ کی جیت قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ایک طرف حکومت کے تحفظ میں ناانصافی تھی، اور دوسری طرف انصاف کے تئیں متاثرہ فیملی کی امید تھی۔ متاثرہ کی لاش زبردست جلا دی گئی۔ متاثرہ کو بدنام کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ اہل خانہ کو دھمکایا گیا۔ لیکن بالآخر سچائی کی جیت ہوئی۔ ستیہ میو جیتے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری نے جاری کردہ بیان میں مزید کہا کہ ’’سچائی کی ایک بار پھر جیت ہوئی ہے۔ ہاتھرس معاملہ کے چار ملزمین کے خلاف آج داخل سی بی آئی کی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ 19 سال کی متاثرہ کے ساتھ بے رحمی سے اجتماعی عصمت دری کی گئی اور اس کا قتل کر دیا گیا۔ یہ چارج شیٹ اتر پردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت، یو پی پولس، اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر، ہاتھرس کے ضلع مجسٹریٹ اور ریاست کے سینئر افسران پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت نے متاثرہ کی زندگی اور موت پر بھی اس کے وقار کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فیملی کی اجازت کے بغیر آدھی رات میں اس کی آخری رسومات ادا کر دی گئی۔ سینئر پولس افسران اور نوکرشاہوں نے عصمت دری کو واضح طور پر مسترد کر دیا، اس کے اہل خانہ کو ڈرایا اور متاثرہ کے ساتھ شرمناک سلوک کیا۔ اس ایشو کو اٹھانے کی ہمت دکھانے والے کچھ میڈیا اہلکاروں کے ساتھ بھی برا سلوک کیا گیا۔ اس کے باوجود اتر پردیش حکومت اور پولس کی پوری طاقت سچائی کو دبا نہیں سکی۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’میں 19 سال کی متاثرہ کی ماں کی تکلیف کو نہیں بھول سکتی، جو اپنی بیٹی کو آخری وداعی بھی نہیں دے سکی۔ فیملی صرف اپنی بچی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سی بی آئی کے ذریعہ فیملی کو انصاف دلانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے اور امید ہے کہ اس سے متاثرہ فیملی کو بے انتہا تکلیف کے درمیان کچھ سکون حاصل ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ سی بی آئی نے جمعہ کو متاثرہ کے 22 ستمبر کو اسپتال میں دیے آخری بیان کی بنیاد پر چاروں ملزمین کے خلاف ہاتھرس کے ایس سی/ایس ٹی کورٹ میں عصمت دری اور قتل کے الزامات میں چارج شیٹ داخل کی، جس پر کورٹ نے نوٹس لے لیا ہے۔ سی بی آئی نے چارج شیٹ میں مانا ہے کہ متاثرہ کی عصمت دری ہوئی اور اس کے ساتھ بری طرح مار پیٹ ہوئی، جس سے اس کی موت ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next