’38 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مجھے غیر قانونی طور پر یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے‘

پرینکا گاندھی سیتاپور واقع پی اے سی کمپاؤنڈ میں زیر حراست ہیں، انھوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاری کے 38 گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی تک انھیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری میں ہوئے واقعہ کے بعد وہاں جانے کے لیے نکلیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا سمیت 11 لوگ تقریباً 40 گھنٹے بعد بھی پولیس حراست میں ہیں۔ انھیں گرفتار کر دو بٹالین پی اے سی کے گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ انھیں کسی سے ملنے بھی نہیں دیا جا رہا۔ اپنی گرفتاری کو لے کر پرینکا گاندھی نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ آئیے نیچے پڑھتے ہیں ان کا پورا بیان...

مجھے سیتاپور کے ڈی سی پی پیوش کمار سنگھ، سی او سٹی، سیتاپور نے زبانی طور پر 4 اکتوبر کی صبح 4.30 بجے یہ کہتے ہوئے گرفتار کیا کہ مجھے دفعہ 151 کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جس وقت مجھے گرفتار کیا گیا اس وقت میں سیتاپور ضلع کی سرحد میں تھی اور لکھیم پور کھیری ضلع سے تقریباً 20 کلو میٹر دور تھی، جہاں دفعہ 144 نافذ تھا۔ میری جانکاری کے مطابق سیتاپور میں دفعہ 144 نافذ نہیں تھا۔


میں ایک ہی گاڑی میں سفر کر رہی تھی اور میرے ساتھ 4 دیگر لوگ تھے۔ ان میں سے دو مقامی کانگریس کارکن تھے، ایک رکن پارلیمنٹ دیپیندر ہڈا جی تھے اور ایک سندیپ سنگھ تھے۔ نہ تو میرے ساتھ اور نہ ہی کانگریس کارکنان کے ساتھ سیکورٹی کے لیے کوئی گاڑی تھی، سوائے ان چار لوگوں کے۔ مجھے دو خاتون کانسٹیبل اور دو مرد کانسٹیبل کے ذریعہ پی اے سی کمپاؤنڈ، سیتاپور لے جایا گیا۔

پی اے سی کمپاؤنڈ میں لائے جانے کے بعد سے مجھے کسی طرح کی کوئی جانکاری نہیں دی گئی کہ آخر کس وجہ سے، کن حالات میں یا پھر کس دفعہ کے تحت مجھے یہاں لایا گیا۔ 5 اکتوبر کی شام 6.30 بجے تک 38 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مجھے نہ تو یو پی پولیس اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے کوئی جانکاری دی گئی۔


  • مجھے ابھی تک کوئی حکم نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی انھوں نے کوئی ایف آئی آر دکھائی ہے۔

  • میں نے سوشل میڈیا میں ایک کاغذ دیکھا ہے جس میں انھوں نے 11 لوگوں کو نامزد کیا ہے۔ ان میں سے 8 لوگ تو میری گرفتاری کے وقت موجود ہی نہیں تھے۔ دراصل اس میں دو ایسے لوگوں کے نام بھی ہیں جو 4 اکتوبر کی دوپہر کو لکھنؤ سے میرے کپڑے لے کر آئے تھے۔

  • مجھے کسی بھی مجسٹریٹ یا کسی دیگر جیوڈیشیل افسر کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے۔

  • مجھے اپنے قانونی مشیروں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جو کہ صبح سے کمپاؤنڈ کے گیٹ پر کھڑے ہیں۔

  • فی الحال میں اس کی تفصیل میں نہیں جا رہی ہوں کہ کس طرح غیر قانونی طریقے سے گرفتاری کے وقت میرے اور میرے ساتھیوں پر جسمانی قوت کا استعمال کیا گیا۔ یہ بیان لگاتار جاری غیر قانونی حراست کے بارے میں ہے۔

پرینکا گاندھی واڈرا

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔