’وزیر اعظم جی، اب تو وزیر مملکت برائے داخلہ کو برخاست کیجیے‘، پرینکا گاندھی کا خط

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم کے نام کھلا خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ کسان قتل عام کی سازش میں شامل مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے کردار کی بلاتاخیر جانچ شروع کی جائے۔

پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری تشدد پر ایس آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر جارحانہ رخ اختیار کیا ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کے نام لکھے خط میں صاف کہا ہے کہ ’’وزیر اعظم جی، کسانوں کو آپ کی کھوکھلی باتیں نہیں سننی ہیں۔ وزیر اعظم کی سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کے کردار کی جانچ بلاتاخیر شروع کروائیے اور انھیں فوراً برخاست کیجیے۔‘‘

پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم کو لکھے گئے کھلے خط میں کہا ہے کہ ’’لکھیم پور واقعہ کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے صاف کہا ہے کہ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے اور دیگر نے اس واقعہ کو لاپروائی میں نہیں بلکہ قصداً اور جان سے مارنے کی نیت سے انجام دیا ہے۔‘‘ انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ’’جب جانچ میں سامنے آ گیا ہے کہ لکھیم پور کسان قتل عام منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا ہے، پھر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کیوں وزیر مملکت برائے داخلہ کو بچا رہے ہیں؟‘‘


پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’عدالت کی پھٹکار اور ستیاگرہ کے سبب اب پولیس کا بھی کہنا ہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے نے سازش کر کے کسانوں کو کچلا تھا۔ جانچ ہونی چاہیے کہ اس سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کیا کردار تھا؟ لیکن وزیر اعظم جی کسان مخالف ذہنیت کے سبب آپ نے تو انھیں عہدہ سے بھی نہیں ہٹایا ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اس معاملے میں کسانوں نے شروع سے ہی یہ بات کہی کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے نے سازش کر کے اس واقعہ کو انجام دیا تھا۔ عزت مآب ہائی کورٹ نے بھی واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور گہرائی سے جانچ یقینی بنانے کو لے کر فکر ظاہر کی تھی اور جانچ کی دھیمی رفتار اور جانچ کے طریقے پر ناخوشی ظاہر کی تھی۔ ایس آئی ٹی نے مانا کہ لکھیم پور کسان قتل عام منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔ پھر وزیر مملکت برائے داخلہ کو وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کیوں بچا رہے ہیں؟‘‘


پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’متاثرہ کنبہ اور ہم ستیاگرہ کر رہے لوگ پہلے دن سے مطالبہ کر رہےہیں کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کی برخاستگی ہو۔ کیونکہ جائے حادثہ پر موجود لوگوں اور متاثرہ کنبوں کا صاف صاف کہنا تھا کہ پوری سازش کر کے تشدد کیا گیا اور کسانوں کو کچلا گیا۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی جی، وزیر داخلہ امت شاہ جی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی نے اپنی کسان مخالف ذہنیت کا کھلا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا اور ان کو تحفظ فراہم کیا۔ وہ ابھی تک اپنے عہدہ پر بنے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ جب کہ انہی اجے مشرا ٹینی نے قتل عام سے کچھ دن پہلے کسانوں کو اسٹیج سے دھمکی دیتے ہوئے سبق سکھانے کی بات کہی تھی۔‘‘

پرینکا گاندھی نے کہا ہے ’’اگر ایس آئی ٹی خود بھی کہہ رہی ہے کہ مجرمانہ عمل کو جان بوجھ کر پہلے سے منصوبہ بنا کر جان سے مارنے کی نیت سے انجام دیا گیا تھا تو یہ جانچ ہونی چاہیے کہ اس سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کا کردار کیا تھا؟ یہ بھی جانچ کا موضوع ہے کہ مودی جی کی حکومت اور یوگی آدتیہ ناتھ جی کی حکومت نے اب تک وزیر مملکت برائے داخلہ کو تحفظ کیوں فراہم کیا اور اس سمت میں جانچ کیوں نہیں کی؟ مودی جی کسانوں کو آپ کی کھوکھلی باتیں نہیں سننی ہیں۔ وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان کے تئیں آپ کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ انھیں انصاف دلوائیں۔ لکھیم پور کسان قتل عام کی سازش میں وزیر مملکت برائے داخلہ کے کردار کی جانچ بلاتاخیر شروع کروائیے اور انھیں فوراً برخاست کیجیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔