مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی، 30 سالوں کی اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی تھوک شرح مہنگائی

مرکزی حکومت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مقابلے نومبر میں ڈبلیو پی آئی 12.54 فیصد سے بڑھ کر 14.23 فیصد ہو گئی ہے۔

سبزیاں، تصویر آئی اے این ایس
سبزیاں، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

مہنگائی میں کسی بھی صورت کمی ہوتی دکھائی نہیں پڑ رہی ہے۔ نومبر ماہ کے لیے تھوک قیمت انڈیکس پر مبنی شرح مہنگائی (ڈبلیو پی آئی) 14.23 فیصد رہی جب کہ اکتوبر ماہ میں یہ 12.54 فیصد تھی۔ ایک سال قبل یعنی نومبر 2020 میں تھوک قیمت پر مبنی شرح مہنگائی 2.29 فیصد رہی تھی۔ تھوک یعنی ہول سیل مہنگائی کی یہ شرح گزشتہ 30 سالوں میں اپنی اعلیٰ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 1991 میں شرح مہنگائی 13.87 فیصد رہی تھی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ گزشتہ 8 مہینے سے لگاتار تھوک مہنگائی شرح دو ہندسہ کے اوپر رہی۔

تھوک شرح مہنگائی سے متعلق جانکاری وزارت برائے کامرس نے دی ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مقابلے نومبر میں ڈبلیو پی آئی 12.54 فیصد سے بڑھ کر 14.23 فیصد ہو گئی ہے۔ اس دوران کھانے پینے کے سامانوں کی تھوک مہنگائی شرح 3.06 فیصد سے بڑھ کر 6.70 فیصد ہو گئی ہے۔ مینوفیکچرنگ سامانوں کی شرح مہنگائی بڑھ کر 11.92 فیصد پر جا پہنچی ہے، جب کہ ایندھن کی شرح مہنگائی 39.81 فیصد پر جا پہنچی ہے۔


نومبر 2021 میں شرح مہنگائی میں اضافہ کی اہم وجہ کھانے پینے کی چیزوں، خام تیل، منرل آئل، بیسل میٹلس، قدرتی گیس، کیمیکلز کی قیمتوں میں اضافہ رہا ہے۔ فوڈ آرٹیکل کی قیمتوں میں 4.88 فیصد کا اضافہ آیا ہے جب کہ اس سے پہلے مہینے میں منفی 1.69 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ سبزیوں کی قیمتوں میں 3.91 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران دال کی قیمتوں میں 2.9 فیصد، گیہوں کی قیمتوں میں 10.14 فیصد اور انڈا، مٹن، مچھلی کی قیمتوں میں 9.66 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایندھن اور بجلی انڈیکس بڑھ کر 39.81 فیصد رہا۔ بیسک میٹلس کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب مینوفیکچرنگ پروڈکٹس سگمنٹکا انڈیکس 11.92 فیصد رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔