کیا کشمیری پنڈت مودی حکومت کے لیے صرف سیاسی ہتھیار ہیں؟ ہجرت سے متعلق آر ٹی آئی کا نہیں ملا جواب

ڈی ایس پی (ہیڈکوارٹر) کشمیر سے حاصل جانکاری میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وادیٔ کشمیر سے ہجرت کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے، جو مجموعی ہجرت کرنے والوں میں تقریباً 88 فیصد ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

دھیریندر اوستھی

کشمیر سے ہجرت کرنے والے کتنے کشمیری پنڈتوں نے گھر واپسی کی ہے؟ مرکز کی نریندر مودی حکومت سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد یہ سوال لگاتار پوچھا جا رہا ہے۔ وہ بھی تب جب وہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد وہاں اب حالات بالکل معمول پر ہیں۔ اس سوال پر حکومت کا رویہ ایک بار پھر حیران کرنے والا ہے۔ وادیٔ کشمیر سے ہجرت کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد کشمیری پنڈتوں کی ہے جو مجموعی مہاجرین میں سے تقریباً 88 فیصد ہیں۔

آر ٹی آئی (جانکاری کا حق قانون) کے تحت حکومت سے پوچھے گئے وادی میں واپس کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی تعداد کا جواب دینا ہی اس نے مناسب نہیں سمجھا ہے۔ شاید اس کے پاس اس کا جواب ہے بھی نہیں۔ کشمیر سے ہجرت کرنے والے کُل 154161 لوگوں میں سے سب سے زیادہ 135426 یعنی 88 فیصد کشمیری پنڈتوں نے ہجرت کی تھی۔ جب کہ ہجرت کرنے والوں میں دیگر کی تعداد محض 12 فیصد ہے، جن میں بیشتر مسلم شامل ہیں۔ ہجرت کے بعد گھر واپسی کرنے والے کشمیری پنڈتوں و دیگر کی تعداد کی اطلاع ڈویژنل کمشنر کشمیر نے نہیں دی۔


ڈی ایس پی (ہیڈکوارٹر) کشمیر سے 27 نومبر کو ملی جانکاری سے اہم انکشافات ہوئے ہیں۔ سال 1990 سے کشمیر میں دہشت گردی شروع ہونے کے وقت سے گزشتہ 31 سالوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں مجموعی طور پر 1724 اشخاص مارے گئے ہیں۔ ان میں سے 5 فیصد یعنی 89 کشمیری پنڈت ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والوں میں سے 95 فیصد یعنی 1635 لوگ دیگر مذاہب کے مارے گئے۔ اس سے واضح ہے کہ کشمیری پنڈتوں کا استعمال آر ایس ایس، بی جے پی نے صرف ملک میں نفرت پھیلا کر ووٹ بٹورنے کے لیے ہی کیا۔ ان کے لیے حقیقت میں کچھ نہیں کیا۔

ریلیف اینڈ ریہبلٹیشن کمشنر جموں ہیڈکوارٹر سے آر ٹی آئی میں حاصل جانکاری کے مطابق گزشتہ 31 سالوں میں کل ہجرت کرنے والے 154161 اشخاص میں سے 135426 ہندوؤں اور 18735 مسلموں نے ہجرت کی۔ ان میں سے 53978 ہندوؤں، 11212 مسلمانوں، 5013 سکھوں اور 15 دیگر کو سرکاری امداد مل رہی ہے۔ جب کہ 81448 ہندو، 949 مسلم، 1542 سکھ و 4 دیگر سمیت کل 83943 لوگ سرکاری امداد سے محروم ہیں۔


آپ کو بتا دیں کہ ہر رجسٹرڈ کشمیری مہاجر کو سرکار کی طرف سے ہر مہینے 3250 روپے، 9 کلو چاول، 2 کلو آٹا اور ایک کلو چینی کی مدد ملتی ہے۔ حکومت ہند کے ذریعہ گزشتہ 10 سالوں میں (سال 11-2010 سے 21-2020 تک) سبھی ہجرت کرنے والے کشمیریوں پر کل تقریباً 5476.58 کروڑ روپے خرچ کیےگئے ہیں۔ ان میں سے 1887.43 کروڑ نقد مدد، 2100 کروڑ کی خوردنی اشیا، 2.25 کروڑ انفراسٹرکچر پر، 82.39 کروڑ روپے شہری سرگرمیوں کے پروگرام پر، 106.42 کروڑ مدد اور بازآبادکاری پر، 1156.22 کروڑ پی ایم سیلری پیکیج پر اور 123.87 کروڑ روپے کا 10 فیصد سرکاری این پی ایس کا حصہ شامل ہے۔

حکومت سے اطلاعات کے حقوق کے تحت یہ جانکاری حاصل کرنے والے پانی پت کے آر ٹی آئی کارکن پی پی کپور کا کہنا ہے کہ اس سے صاف ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے سیاسی مسئلہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔