پی ایم مودی، امت شاہ اور ارنب گوسوامی نے ملک سے کھلواڑ کیا: کانگریس

سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا کہ ’’قومی سیکورٹی سے جڑی حساس جانکاری کچھ ایسے لوگوں کے پاس تھی جن کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

تصویر ئو این آئی
تصویر ئو این آئی
user

تنویر

ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر اِن چیف ارنب گوسوامی اور ٹی وی ریٹنگ ایجنسی بارک کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا کے درمیان ہوئے مبینہ واٹس ایپ چیٹ کو لے کر کانگریس نے سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس واٹس ایپ چیٹ کے افشا ہونے کے بعد کانگریس نے ارنب گوسوامی کے ساتھ ساتھ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر بھی ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس سلسلے میں کانگریس نے آج ایک پریس کانفرنس کی، جس میں سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے کہا کہ ’’صحافی ارنب گوسوامی اور پارتھو داس گپتا کے درمیان پلوامہ میں 40 جوانوں کی شہادت کو لے کر جس زبان کا استعمال ہوا ہے، وہ حیران کرنے والا ہے۔ اس سے مجھے ذاتی طور پر بہت تکلیف ہوئی ہے۔‘‘

کانگریس کے ذریعہ منعقد پریس کانفرنس میں اے کے انٹونی کے علاوہ سینئر لیڈران سلمان خورشید، سشیل کمار شندے اور غلام نبی آزاد وغیرہ بھی شامل تھے۔ انھوں نے رازداری والی باتیں افشا ہونے پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ انٹونی نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’یہ واٹس ایپ گفتگو پورے ملک کے لیے فکر کی بات ہے۔ ہر محب وطن ہندوستانی حیران ہے کیونکہ یہ قومی سیکورٹی سے جڑا معاملہ ہے۔ ملک کے عام لوگوں اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان کئی ایشوز پر نااتفاقی ہو سکتی ہے، لیکن جب قومی سیکورٹی سے جڑا معاملہ سامنے آتا ہے تو پھر پورا ملک ایک ہوتا ہے۔‘‘

انٹونی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’قومی سیکورٹی سے جڑی اور بہت حساس جانکاری کچھ ایسے لوگوں کے پاس تھی جن کے پاس نہیں ہونی چاہیے۔ شہید جوانوں کے بارے میں جس زبان کا استعمال کیا گیا اس سے میں بہت افسردہ ہوں۔‘‘ سابق وزیر دفاع نے سوال کیا کہ ’’حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے صرف چار پانچ لوگوں کو اس طرح کی مہم کے بارے میں پتہ ہوتا ہے، ایسے میں بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک سے کچھ دنوں پہلے ایک صحافی کو اس بارے میں کیسے پتہ چلا؟‘‘ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’رازداری والی باتیں افشا کرنا ایک مجرمانہ عمل ہے۔ فوج اور قومی سیکورٹی سے جڑی جانکاری افشا کرنا ملک مخالف عمل ہے اور ملک سے غداری ہے۔ اس طرح کی ملک مخالف سرگرمیوں کی جانچ ضروری ہے۔‘‘

سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے واٹس ایپ چیٹ معاملہ پر اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں اس ایشو کو ضرور اٹھاؤں گا۔ سرکاری رازداری ایکٹ کے تحت جو کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کیا۔ مجھے امید ہے کہ جانچ ہوگی اور جو گناہ ہوا ہے، اس کی سزا ملے گی۔‘‘ سابق وزیر قانون سلمان خورشید نے واٹس ایپ چیٹ میں عدلیہ سے متعلق مبینہ تذکرہ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’عدلیہ انصاف کا مندر ہے۔ اس واٹس ایپ گفتگو میں جو باتیں سامنے آئی ہیں، وہ بہت افسوسناک ہیں۔ گندی سیاست سے عدلیہ کو دور رکھا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اس بات چیت میں سابق مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے بارے میں جو باتیں کی گئی ہیں وہ بہت افسوسناک ہیں۔ یہ باتیں بہت پریشان کرتی ہیں۔‘‘

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اس پورے معاملے کو ملک کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’73 سال کی تاریخ میں قومی سیکورٹی کے ساتھ ایسا کھلواڑ ہوتے ہوئے اس ملک نے نہیں دیکھا۔ آزاد ہندوستان کے وزیر اعظم، ان کے دفتر، وزیر داخلہ اور پوری حکومت کے وقار کو تباہ ہوتے ہوئے بھی یہ ملک دیکھ رہا ہے۔ عدلیہ پر، ملک کی آئین کا حلف لینے والوں پر ایسا سوالیہ نشان پہلے کبھی نہیں لگا۔ 73 سالوں میں ایسی گندگی نہیں دیکھی گئی جہاں آئینی روایت، ضابطہ، قانون سب ملک کی اعلیٰ قیادت کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں۔‘‘

پون کھیڑا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں امید کرتا ہوں کہ ملک آخری بار یہ منظر دیکھ رہا ہے۔ بڑے بڑے نظر آنے والے لوگ کتنے بونے (پستہ قد) ہو جاتے ہیں کہ اپنا ایمان ایک ایسے شخص کے ساتھ مل کر فروخت کر رہے ہیں جو خود کو صحافی کہتا ہے۔ ملک کے ساتھ جو کھلواڑ وزیر اعظم جی، امت شاہ صاحب اور ارنب گوسوامی (جو خود کو صحافی کہتے ہیں، لیکن میں انھیں صحافی نہیں کہوں گا) نے مل کر جو کیا، اسے دیکھ کر پورا ملک حیران ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ارنب گوسوامی کی جن چیٹس کو ممبئی کرائم برانچ نے چارج شیٹ میں شامل کیا ہے، ان میں دو سال قبل ہندوستان کے بالاکوٹ میں کی گئی فوجی کارروائی سے بھی جڑی ہوئی باتیں شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارنب گوسوامی کو یہ جانکاری پہلے سے تھی۔ دراصل 14 فروری 2019 کو پلوامہ کے قریب ایک سی آر پی ایف قافلہ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ اس میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس دن پارتھو داس گپتا کے ساتھ اپنی مبینہ بات چیت میں گوسوامی پہلے کہتے ہیں کہ ان کا چینل کشمیر میں سال کے سب سے بڑے دہشت گردانہ حملے پر 20 منٹ آگے تھا۔ پھر گوسوامی مبینہ طور پر اپنے چینل کی کوریج پر کہتے ہیں کہ اس حملے پر ہم جیت گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next