اتر پردیش اسمبلی گیلری میں لگائی گئی ’ساورکر‘ کی تصویر، تنازعہ شروع

کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے یو پی قانون ساز اسمبلی کی فوٹو گیلری میں ویر ساورکر کی تصویر لگائے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس عمل کو مجاہدین آزادی کی بے عزتی قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے قانون ساز اسمبلی کی فوٹو گیلری میں دامودر ساورکر کی تصویر لگائے جانے پر سخت عتراض کیا ہے۔ ساورکر کو ہندوتوا کے بانی کی شکل میں جانا جاتا ہے اور تاریخ میں اسے وطن کے غدار کی شکل میں یاد کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسمبلی گیلری میں ساورکر کی تصویر لگائے جانے سے لوگوں میں ناراضگی ہے۔ فوٹو گیلری کا افتتاح منگل کے روز اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کیا تھا۔

کانگریس ایم ایل سی دیپک سنگھ نے یو پی کونسل کے چیئرمین رمیش یادو کو خط لکھ کر ساورکر کی تصویر کو گیلری سے فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس ایم ایل سی کا کہنا ہے کہ فوٹو گیلری میں ان کی (ساورکر کی) تصویر سبھی مجاہدین آزادی کی بے عزتی ہے۔ اسے فوراً ہٹا دیا جانا چاہیے اور اسے بی جے پی دفتر میں رکھا جا سکتا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس معاملے میں کہا ہے کہ ساورکر اتنے سارے تنازعات سے گھرے ہوئے ہیں کہ انھیں اسمبلی فوٹو گیلری میں جگہ ملنی ہی نہیں چاہیے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ انھوں نے انگریزوں سے کس طرح معافی کی بھیک مانگی۔ بی جے پی کو تاریخ سے سمجھ حاصل کرنی چاہیے۔ ان کی تصویر ہمارے عظیم مجاہدین آزادی کی بے عزتی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے منگل کے روز جب فوٹو گیلری کا افتتاح کیا تھا تو ساورکر کی خوب تعریف کی تھی۔ انھوں نے ساورکر کو ایک عظیم مجاہد آزادی بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ویر ساورکر کو تحریک آزادی میں ان کے کردار کے لیے دو بار تاحیات قید و بند کی سزا ملی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next