پیگاسس جاسوسی معاملہ: جموں میں کانگریس کا احتجاجی مظاہرہ، تحقیقات کا مطالبہ

ایک کانگریس لیڈر نے پیگاسس جاسوسی معاملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کے حق راز داری پر حملہ ہے اور اس تعلق سے عدالت عظمیٰ کے ذریعہ جانچ کی جانی چاہئے۔

علامتی تصویر، کانگریس کارکنان
علامتی تصویر، کانگریس کارکنان
user

یو این آئی

جموں: کانگریس نے جمعرات کے روز یہاں ’پیگاسس‘ جاسوسی معاملے کے خلاف احتجاج درج کر کے اس میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی کانگریس لیڈران و اراکین بی جے پی اور مرکزی حکومت کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے اور راج بھون کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے، تاہم وہاں تعینات سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

اس موقع پر سینئر کانگریس لیڈر رمن بھلہ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے لوگوں کے حق رازداری کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حق ہمیں آئین نے دیا ہے اور یہ ہمارا جمہوری حق ہے جس کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ عدالت عظمیٰ کے ایک جج کی قیادت میں اس جاسوسی معاملے کی جانچ ہونی چاہئے۔


کانگریس کے ایک دیگر لیڈر نے کہا کہ یہ لوگوں کے حق راز داری پر ایک حملہ ہے اور اس میں عدالت عظمیٰ سے جانچ کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اس جاسوسی معاملے میں جانچ کے ساتھ ساتھ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اس معاملے میں جانچ نہیں کرائی جائے گی تب تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ عالمی میڈیا کے ایک کنسورٹیم (انجمن) کے ذریعہ لیک ہوئے ڈیٹا پر مبنی ایک تحقیقات سے یہ ثبوت ملے ہیں کہ اسرائیل میں مقیم سائبر فرم این ایس او گروپ کے تیار کردہ ملٹری گریڈ اسپائی ویئر کا صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی اختلافات رکھنے والوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔