اَب ’گنگا جل‘ سے ہوگا کورونا کا علاج، بی ایچ یو سائنسدانوں کا دعویٰ

کورونا کی تیسری لہر کے اندیشہ نے سبھی کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، لیکن بی ایچ یو سائنسدانوں کے دعویٰ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

جارجیا کی طرز پر وارانسی میں کورونا کا علاج ممکن بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ دراصل جارجیا میں فیز تھیراپی کا استعمال ہو رہا ہے اور اب اسی طرز پر بی ایچ یو سائنسدانوں نے گنگا جل سے کورونا کے علاج کا دعویٰ کیا ہے۔ اس تعلق سے سائنسدانوں کی ایک عرضی پر ہائی کورٹ نے آئی سی ایم آر او آیوش وزارت کو نوٹس جاری کر بی ایچ یو سائنسدانوں کی تحقیق کا کلینکل ٹرائل کرنے کی بات کہی ہے۔

کورونا کی تیسری لہر کے اندیشہ نے سبھی کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، لیکن بی ایچ یو سائنسدانوں کے دعویٰ سے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ سائنسدانوں نے تیسری لہر سے قبل ایک ایسا اسپرے دریافت کر لیا ہے جو گنگا کے پانی سے بنا ہے۔ اس اسپرے کو مجموعی طور پر 6 مرتبہ استعمال میں لا کر کورونا سے راحت پانے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اس دعوے کو ثابت کرتا ہے جارجیا کا فیز تھیراپی اصول۔


سینئر ڈاکٹر وی این مشرا کی بات پر یقین کیا جائے تو گنگا کے پانی میں کچھ ایسی خوبیاں ہیں جو کورونا وائرس کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں، اور اس پانی میں فیز کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ درحقیقت یہ وائرس کو وائرس سے ختم کرنے کا اصول ہے جو بیرون ممالک میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ اب اسی کو بنیاد بنا کر ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے کلینکل ٹرائل کی بات عدالت نے کہی ہے۔

واضح رہے کہ گنگا کے پانی میں دواؤں کا ذخیرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ ایسی خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ گنگا اسنان کرنے والے کورونا سے شفایاب ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی کئی ایسی مثالیں ہیں جو گنگا کے پانی میں دوائی خوبیاں ہونے کی بات ثابت کرتے ہیں۔ نمامی گنگے پروگرام کے کنوینر راجیش شکلا کی مانیں تو ان خوبیوں کو محسوس کیا جا رہا ہے جو اچھی بات ہے۔


بہر حال، فیز تھیراپی کو کاشی کے سائنسدانوں نے تلاش کر اب علاج میں اس کا استعمال کرنے کا عزم کیا ہے۔ بی ایچ یو کے سائنسدانوں کی تحقیق کا کلینیکل ٹرائل ہونے کے ساتھ ہی جو چیزیں سامنے آئیں گی، اس کے مطابق آگے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ اگر ٹرائل میں ’نزل اسپرے‘ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں کورونا پر فتح کے ساتھ سستے علاج کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔