کھٹر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش، بحث کے لیے 2 گھنٹے کا وقت

ہریانہ اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ ’’مجھے اپوزیشن لیڈر (بھوپیندر سنگھ ہڈا) اور کانگریس کے 27 دیگر اراکین اسمبلی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا نوٹس حاصل ہوا ہے۔‘‘

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ہریانہ اسمبلی میں آج اپوزیشن پارٹی کانگریس کی جانب سے بی جے پی-جے جے پی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی اسپیکر گیان چند گپتا نے اس پر بحث کے لیے دو گھنٹے کا وقت متعین کیا ہے۔ وقفہ سوال ختم ہونے کے بعد اسپیکر نے کابینہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے نوٹس کو منظور کر لیا۔

اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ ’’مجھے اپوزیشن لیڈر (بھوپیندر سنگھ ہڈا) اور کانگریس کے 27 دیگر اراکین اسمبلی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا نوٹس حاصل ہوا ہے۔‘‘ اسپیکر نے اس نوٹس کو منظور کیا اور بحث کے لیے دو گھنٹے کا وقت طے کیا۔ ہڈا نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی قیادت والے ہریانہ کابینہ کے خلاف یہ تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ اس سے قبل ہڈا نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’’تحریک عدم اعتماد سے لوگوں کو پتہ چلے گا کہ کتنے اراکین اسمبلی حکومت کے ساتھ ہیں اور کتنے اراکین اسمبلی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔


90 رکنی اسمبلی میں اس وقت اراکین کی کل تعداد 88 ہے، جس میں برسراقتدار بی جے پی کے 40 اراکین، جے جے پی کے 10 اور کانگریس کے 30 اراکین ہیں۔ جے جے پی کے علاوہ سات آزاد رکن اسمبلی ہیں اور ایک رکن ہریانہ لوک ہت پارٹی کا ہے، جس نے بی جے پی حکومت کو اپنی حمایت دی ہوئی ہے۔ کسان تحریک کے سبب جے جے پی سربراہ دشینت چوٹالہ پر لگاتار دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اگر جے جے پی اپنی حمایت واپس بھی لے لیتی ہے تو بھی ریاست میں بی جے پی حکومت بنی رہ سکتی ہے، کیونکہ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس پانچ مزید آزاد رکن اسمبلی کی بھی حمایت حاصل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔