ذات پر مبنی مردم شماری کے حق میں ہیں نتیش کمار، پی ایم مودی کو جلد لکھیں گے خط

بہار قانون سازیہ نے 18 فروری 2019 اور پھر بہار اسمبلی نے 27 فروری 2020 کو ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی تجویز اتفاق رائے سے پاس کی تھی اور اسے مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا۔

مودی اور نتیش، تصویر یو این آئی
مودی اور نتیش، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کو ایک ملاقات کے دوران یقین دلایا کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھیں گے اور ساتھ ہی قانونی طریقے پر بھی غور کریں گے۔ نتیش کمار نے جمعہ کو اسمبلی واقع اپنے چیمبر میں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کو لے کر ملنے آئے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو اور دیگر اپوزیشن لیڈران سے کہا کہ ’’میں بھی اس کا حامی ہوں۔ ابھی میں دہلی جا رہا ہوں اور دہلی سے لوٹنے کے بعد 2 اگست کو میں وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اس پر غور کرنے کی درخواست کروں گا۔‘‘

وزیراعلیٰ سے مل کر لوٹنے کے بعد اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ ”وزیراعلیٰ سے ذات پر مبنی مردم شماری کے سلسلے میں ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ ہم لوگوں نے ان سے ایک مرتبہ پھر درخواست کی ہے کہ مرکزی حکومت پر ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے لیے دباﺅ ڈالیں۔‘‘ انہوں نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ ان کی قیادت میں ایک کل جماعتی وفد اس مسئلے پر وزیر اعظم سے ملے اور اس ملاقات کے لیے وہ وزیراعظم سے وقت مانگیں۔


تیجسوی یادو نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مرکزی حکومت اس کے لیے تیار نہیں ہوتی ہے تو بہار حکومت بھی کرناٹک کی طرح ہی خود اپنے خرچ سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ وہ اس سے متعلق پوری معلومات حاصل کر کے جو بھی قانونی طریقہ ہوگا اس پر غور کریں گے۔

اس دوران اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ پسماندوں اور انتہائی پسماندوں کی بھی مردم شماری ہونی چاہئے۔ اس طرح کی مردم شماری ہونے سے سبھی لوگوں کا فائدہ ہوگا۔ حکومت کو عوامی فلاح کے لیے بجٹ کی تجویز کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ اس سے لوگوں کو بھی پتہ چلے گا کہ ان کی ذات کی کتنی آبادی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کے مفاد میں ہے۔


وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے ان کے چیمبر میں ملاقات کے دوران اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کے علاوہ راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) کے لیڈر تیج پڑتاپ یادو، کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈر اجیت شرما، سی پی آئی ایم ایل لیڈر محبوب عالم، سی پی آئی لیڈر رام رتنی سنگھ، سی پی یم لیڈر اجے کمار سمیت اپوزیشن کے کئی لیڈران موجود تھے۔

غور طلب ہے کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار اور ان کی پارٹی جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے کئی لیڈران بھی ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے حق میں مسلسل بیان دیتے رہے ہیں۔ ویسے بہار قانون سازیہ نے 18 فروری 2019 اور پھر بہار اسمبلی نے 27 فروری 2020 کو ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی تجویز اتفاق رائے سے پاس کی تھی اور اسے مرکزی حکومت کو بھیجا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔