مودی حکومت کسانوں کی ’گاندھی وادی‘ تحریک کو کچلنے کی سازش بند کرے: کانگریس

7 ستمبر کو ہریانہ میں ہونے والی ’کسان مہاپنچایت‘ کو درست ٹھہراتے ہوئے کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کی مرکزی اور ہریانہ حکومتیں کسانوں پر قاتلانہ حملہ کرنے والے افسروں و سیاستدانوں پر کارروائی کرے

کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال
user

قومی آوازبیورو

کانگریس نے بی جے پی حکومت کے ذریعہ کسانوں پر کیے جا رہے مظالم اور ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جانے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی، ہریانہ و اتر پردیش حکومتیں کسانوں کو انصاف دینے کی جگہ کسان-مزدوروں کی گاندھی وادی تحریک کو دبانے اور کچلنے میں مصروف ہیں۔ تین زراعت مخالف سیاہ قوانین سے کسانوں کی روزی روٹی پر حملہ کیا جا رہا ہے اور انصاف مانگنے والے کسانوں کو دہلی نہ آنے کی اجازت دے مودی حکومت نے اپنا کسان مخالف چہرہ ظاہر کر دیا ہے۔‘‘

بی جے پی پر یہ حملہ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے اپنے ایک جاری بیان میں کیا ہے۔ انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ ’’9 مہینے سے زیادہ مدت سے دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے کسانوں کا کیا قصور ہے؟ 800 سے زیادہ کسان اب اس تحریک میں اپنی قربانی دے چکے، اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ کسانوں سے بات چیت کے نام پر بی جے پی کے وزراء نے اینٹھ دکھائی، بات ماننے سے انکار کر دیا اور تینوں سیاہ قوانین پر از سر نو غور تک کرنے سے انکار کر دیا، کیا یہ بی جے پی کے گھمنڈ کا عروج نہیں ہے؟‘‘


اپنے بیان میں وینوگوپال مزید کہتے ہیں کہ ’’افسوس کی بات تو یہ ہے کہ انصاف دینے کی جگہ بی جے پی حکومتیں،چاہے وہ ہریانہ ہو یا تر پردیش، کسانوں پر لاٹھیاں چلوا رہی ہیں اور قاتلانہ حملہ کر رہی ہیں۔ جس طرح سے کرنال، ہریانہ میں یکم ستمبر کو ایک آئی اے ایس افسر کے ذریعہ سر عام کسانوں کا سر توڑنے اور پھوڑنے کا حکم پولیس کو دیا، اس سے صاف ہے کہ یہ حکم مودی و ہریانہ کی بی جے پی حکومتوں کے اشارے پر دیا گیا تھا۔ اس بات کی وضاحت پیش کرنے کی جگہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے اس آئی اے ایس افسر کو ہی درست ٹھہرا دیا۔ یہ اپنے آپ میں کسان مخالف بی جے پی کی سازش کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ مظفر نگر کسان مہاپنچایت میں کسانوں نے اعلان کیا کہ وہ انصاف مانگنے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کروانے کے لیے 7 ستمبر، 2021 کو کرنال (ہریانہ) میں کسان مہاپنچایت کا انعقاد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’حل نکالنا تو دور، قصوروار افسران پر کارروائی کرنا تو دور، کسانوں کو بات چیت کے لیے بلانا تو دور، اس کے ٹھیکس برعکس ہریانہ کی بی جے پی-جے جے پی حکومت نے کرنال میں انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم جاری کر دیا اور کسانوں کی مہاپنچایت روکنے کے لیے کرنال میں دفعہ 144 نافذ کر دیا۔ اس سے صاف ہے کہ مودی-کھٹر حکومتیں ایک بار پھر بھولے بھالے اور گاندھی وادی کسانوں کو قصداً تشدد کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔


کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ مودی و کھٹر حکومتیں اپنی ضد اور گھمنڈ کو چھوڑ کر کرنال سے دفعہ 144 ہٹائے، انٹرنیٹ سروس بحال کرے اور کسانوں کو پرامن طریقے سے مہاپنچایت کرنے دے۔ کانگریس نے ساتھ ہی بی جے پی حکومتوں کو یہ بھی کہا کہ وہ کسانوں کو بات چیت کے لیے بلائیں اور قصوروار افسران و سفید پوشوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا راستہ ہموار کرے۔ یہی ہندوستان کے کسانوں کے ساتھ انصاف ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔