اوول ٹیسٹ: انگلینڈ کا خواب چکنا چور کر ہندوستان نے رقم کی تاریخ، فتح کے ساتھ سیریز میں 2-1 سے آگے

چوتھے دن تک اچھی پوزیشن میں نظر آ رہی انگلینڈ کی ٹیم کو پانچویں دن ہندوستانی گیندبازوں نے نہ صرف ایک ایک رن کے لیے ترسایا، بلکہ کسی بھی بلے باز کو بہت زیادہ دیر تک میدان میں ٹھہرنے کا موقع نہیں دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے چوتھے میچ میں ہندوستان نے تاریخی جیت حاصل کر کے 2-1 کی ناقابل تسخیر سبقت حاصل کر لی ہے۔ اوول کے میدان میں ہندوستان کا ریکارڈ بہت خراب تھا، لیکن چوتھے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن تک اچھی پوزیشن میں نظر آ رہی انگلینڈ کی ٹیم کو آخری دن ہندوستانی گیندبازوں نے نہ صرف ایک ایک رن کے لیے ترسایا، بلکہ کسی بھی بلے باز کو بہت زیادہ دیر تک میدان میں ٹھہرنے کا موقع نہیں دیا۔ انگلینڈ کی پوری ٹیم کو 92.2 اوور میں محض 210 رنوں پر سمیٹ کر ہندوستان نے نہ صرف انگلینڈ کا سیریز میں سبقت لینے کا خواب چکنا چور کر دیا بلکہ 157 رنوں کی جیت کو ایک تاریخی جیت میں تبدیل کر دیا۔

پہلی اننگ میں ہندوستان نے 191 رن کا اسکور کھڑا کیا تھا اور انگلینڈ نے پہلی اننگ میں 290 رن بنا کر 99 رنوں کی بہترین سبقت حاصل کر لی تھی۔ پھر روہت شرما (127 رن)، کے ایل راہل (46 رن)، چیتیشور پجارا (61 رن)، وراٹ کوہلی (44 رن)، رشبھ پنت (50 رن)، شردل ٹھاکر (60 رن) کے ساتھ ساتھ امیش یادو (25 رن) اور جسپریت بمراہ (24 رن) نے دوسری اننگ میں بہترین بلے بازی سے 466 رن کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔ لیکن پہلی اننگ میں 99 رنوں سے پیچھے رہنے کے سبب انگلینڈ کو چوتھے دن کے آخری سیشن اور پانچویں دن ملا کر 367 رنوں کا ہدف ملا۔ چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے پر انگلینڈ نے بغیر کوئی وکٹ گنوائے 77 رن بنا بھی لیے تھے۔ لیکن پانچواں دن پوری طرح سے ہندوستانی گیندبازوں کے نام رہا جنھوں نے سپاٹ پچ پر منصوبہ بندی کے ساتھ گیندبازی کی۔ رویندر جڈیجہ جو اب تک کمزور کڑی ثابت ہوتے رہے تھے، پانچویں دن بڑی طاقت بن کر سامنے آئے۔


پانچویں دن کا کھیل جب شروع ہوا تو 23 رن جوڑنے کے بعد پہلے روڑی برنس (50 رن) شردل ٹھاکر کا شکار ہوئے، پھر 120 رن کے مجموعی اسکور پر ڈیوڈ ملان (5 رن) مینک اگروال کے ایک بہترین تھرو پر رَن آؤٹ ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد دوسرے اوپنر حسیب حمید (63 رن) کو رویندر جڈیجہ نے بولڈ کر دیا۔ یہاں سے انگلینڈ کی پریشانیاں صاف نظر آنے لگیں، کیونکہ کپتان جو روٹ کے علاوہ کوئی بھی جم کر کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اولی پوپ (2 رن)، جونی بیرسٹو (صفر) اور معین علی (صفر) جلدی جلدی پویلین لوٹ گئے۔ اس موقع پر اسکور 147 رن پر 6 وکٹ ہو گیا اور ہندوستان کو اپنی فتح نظر آنے لگی۔ ایسے وقت میں ہندوستانی گیندبازوں نے مزید جارحیت کے ساتھ گیندبازی شروع کر دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو روٹ (36 رن) کی شکل میں ساتواں وکٹ شردل ٹھاکر نے ہندوستان کی جھولی میں ڈال دیا۔ کچھ ہی دیر بعد کرس ووکس (18 رن) بھی امیش یادو کی گیند پر راہل کو کیچ تھما بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی ’چائے‘ کا وقت ہو گیا۔

چائے کے بعد جب ایک بار پھر کھیل شروع ہوا تو 9 رن ہی جڑ پائے تھے کہ کریگ اوورٹن کو امیش یادو نے ایک اچھلتی ہوئی گیند پر آؤٹ کر دیا۔ گیند اوورٹن کے ہاتھ میں لگ کر وکٹ کی طرف چلی گئی اور وہ بولڈ ہو گئے۔ گیند ہاتھ میں لگنے کی وجہ سے اوورٹن کو کافی تکلیف بھی ہوئی اور وہ اسی حالت میں پویلین کی طرف چلے گئے۔ آخری وکٹ جیمس اینڈرسن کی شکل میں گرا جنھوں نے 2 رن بنائے۔


جہاں تک ہندوستانی گیندبازوں کا سوال ہے، تو دوسری اننگ میں محمد سراج کو چھوڑ کر سبھی کو وکٹ حاصل ہوا۔ شردل ٹھاکر نے 8 اوور میں 22 رن دے کر 2 وکٹ، رویندر جڈیجہ نے 30 اوور میں 50 رن دے کر 2 وکٹ، جسپریت بمراہ نے 22 اوور میں 27 رن دے کر 2 وکٹ، اور امیش یادو نے 18.2 اوور میں 60 رن دے کر 3 وکٹ حاصل کیے۔ محمد سراج نے 14 اوور میں 44 رن دیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔