عزیز قریشی اپنے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے پر افسردہ

عزیز قریشی نے کہا کہ ’’میں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جس طرح موجودہ دور میں مظالم بڑھے ہیں، پہلے ایسا نہیں تھا، میں نے کسی بھی پر ذاتی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ذاتی بیان دیا ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

اتر پردیش کے سابق گورنر عزیز قریشی کے خلاف ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے کے بعد کئی لوگوں نے سوال کھڑے کیے ہیں۔ اس درمیان عزیز قریشی نے خود اس معاملے پر بیان دیتے ہوئے افسردگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ملک سے بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے کے بعد اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے بیان کو غلط طریقے سے لیا گیا ہے۔ مجھے سیاسی طور پر نقصان پہنچانے اور عوام کے درمیان غلط شبیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

عزیز قریشی نے اپنے اس بیان کا تذکرہ بھی کیا جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے کہا تھا کہ جس طرح موجودہ دور میں مظالم بڑھے ہیں، پہلے ایسا نہیں تھا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں نے کسی بھی پر ذاتی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ذاتی بیان دیا ہے۔‘‘


واضح رہے کہ اتر پردیش کے ضلع رام پور میں سابق گورنر عزیز قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ریاستی حکومت کی مخالفت میں مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کیا۔ ان پر ملک سے بغاوت اور مذہب کی بنیاد پر دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کی کوشش کرنے کا الزام ایف آئی آر میں عائد کیا گیا ہے۔ اس ایف آئی آر سے متعلق پولیس نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ عزیز قریشی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اے (مذہب، ذات وغیرہ کی بنیاد پر دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 153 بی (قومی اتحاد کے خلاف اثر ڈالنے والی تقریر کرنا)، 124 اے (ملک سے بغاوت)، اور 505، 1بی (عوامی امن کے خلاف جرم کرنے کے مقصد سے جھوٹا بیان) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔