مودی حکومت پیگاسس جاسوسی معاملہ پر پارلیمنٹ کی توہین کر رہی: کانگریس

کانگریس ترجمان ابھشیک منو سنگھوی نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت پیگاسس پر پارلیمنٹ میں بحث سے کیوں بھاگ رہی ہے، اس معاملے پر وزیر داخلہ نے کیوں کہا کہ پیگاسس کو منظرعام پر لانے کا وقت غلط ہے؟

ابھیشیک منو سنگھوی، تصویر آئی اے این ایس
ابھیشیک منو سنگھوی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے پیگاسس جاسوسی معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت جاسوسی کے اس معاملے کو پارلیمنٹ سے باہر بحث کی بات کرنے کی بات کہتی ہے تو ایسا کہہ کر وہ ملک کی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی توہین کر رہی ہے۔

کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت پارلیمنٹ میں اس مسئلے کے جواب دینے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت پارلیمنٹ سے باہر اس معاملے پر بات کرنے کے لئے تیار ہے لیکن وہ اس پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کرنا چاہتی۔ حکومت اس مسئلے سے متعلق سوالات سے بچنا چاہتی ہے اس لیے وہ پارلیمنٹ کے باہر بحث کی بات کر رہی ہے۔


ترجمان نے پارلیمنٹ کے باہر اس معاملے پر حکومت کے جواب کو جمہوریت کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ بہت بڑا ہے اور حکومت کو جمہوری روایت کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرنی چاہئے اور اس سے متعلق سوالوں کا بھی پارلیمنٹ میں جواب دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے پیگاسس کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ملک کے عوام کو ان سوالات کا براہ راست جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ یہ بتائے کہ آیا اس نے پیگاسس خریدا ہے اور کسی خاص شخص کے خلاف استعمال کیا ہے۔

سنگھوی نے بتایا کہ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ حکومت اس پر پارلیمنٹ میں بحث سے کیوں بھاگ رہی ہے۔ اس معاملے پر وزیر داخلہ نے کیوں کہا کہ پیگاسس کو منظرعام پر لانے کا وقت غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ حیرت کی بات ہے کہ حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ کے باہر بہت کچھ بات کر رہی ہے لیکن نہ ہی اس کا جواب دینا چاہتی ہے اور نہ ہی اس پر پارلیمنٹ میں بات کرنے کو تیار ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔