دہلی اسمبلی میں پولیس کمشنر کے طور پر استھانہ کی تقرری کے خلاف قرارداد منظور

رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا، ’’سپریم کورٹ نے 2019 میں فیصلہ سنایا تھا کہ چھ مہینے سے کم کی مدت والے کسی بھی افسر کو اعلیٰ عہدے کے لئے نامزد نہیں کیا جانا چاہئے۔

راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
راکیش استھانہ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی اسمبلی نے راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف جمعرات کے روز ایک قرارداد منظور کی۔ ان کی تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے مانسون اجلاس کے پہلے دن دہلی اسمبلی کے ضابطہ 55 کے تحت یہ معاملہ اٹھایا۔

راکیش استھانہ کے خلاف پیش کی گئی قرارداد پر بحث کے دوران سب سے پہلے بیان دیتے ہوئے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ راکیش استھانہ کو دہلی کا نیا پولیس کمشنر مقرر کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ براڑی سے رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا، ’’سپریم کورٹ نے 2019 میں فیصلہ سنایا تھا کہ چھ مہینے سے کم کی مدت والے کسی بھی افسر کو اعلیٰ عہدے کے لئے نامزد نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ مئی 2019 میں استھانہ کا نام سب سے آگے ہونے کے باوجود انہیں سی بی آئی کا سربراہ نہیں بنایا گیا تھا۔‘‘


اسمبلی میں اس معاملہ پر بولنے والے دیگر ارکان اسمبلی اکھلیش پتی تریپاٹھی، سومناتھ بھارتی اور ستیندر جیت تھے۔ حزب اختلاف کے سینئر لیڈر رام ویر سنگھ بدھوڑی نے اگرچہ استھانہ کے طویل عوامی خدمات کے دوران کئے گئے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تقرری کی وکالت کی۔ بدھوڑی نے کہا کہ استھانہ ایک ایماندار افسر ہیں، لہذا ایماندار لوگوں کو ان کی تقرری پر فکر نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ بدعنوانوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لاتے ہیں۔

خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے بی ایس ایف (بارڈر سیکورٹی فورس) کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے تین دن قبل منگل کے روز استھانہ کو دہلی کا نیا پولیس کمشنر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔