منریگا بچاؤ سنگرام: ’اک باغ نہیں، اک کھیت نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے‘، کانگریس نے مزدوروں کے حقوق بچانے کا کیا عزم
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ مودی حکومت منریگا کو ختم کر دبے کچلے لوگوں کو بندھوا مزدور بنانا چاہتے ہیں۔ نریندر مودی انھیں بندھوا مزدور بنا کر امیروں کے ہاتھ میں سونپے جا رہے ہیں۔

مزدوروں کو ان کا حق دلانے والے قانون ’منریگا‘ کے اصولوں میں تبدیلی کر اسے ’جی رام جی‘ نام دینے کے خلاف کانگریس کی جنگ زور و شور سے جاری ہے۔ ملک گیر سطح پر جاری ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کے تحت مختلف ریاستوں میں تقاریب کا انعقاد ہو رہا ہے اور کانگریس کے ذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی روزانہ بڑی تعداد میں پوسٹس کی جا رہی ہیں۔ آج ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے 1983 میں ریلیز ہوئی مشہور فلم ’مزدور‘ کا ایک نغمہ پیش کر مزدوروں کے حق کی آواز بلند کرنے کا اپنا عزم ظاہر کیا ہے۔
کانگریس کے ذریعہ جاری اس پوسٹ میں 22 جنوری کو دہلی میں منعقد اس تقریب کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں، جس میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے شرکت کی۔ اس ویڈیو میں بیک گراؤنڈ سے ’مزدور‘ فلم کا مشہور نغمہ ’ہم محنت کش اس دنیا سے...‘ بج رہا ہے، جسے فیض احمد فیض نے لکھا اور مہندر کپور نے اپنی آواز دی ہے۔ ویڈیو میں اس نغمہ کے محض 2 مصرعے (ہم محنت کش اس دنیا سے جب اپنا حصہ مانگیں گے/ ایک باغ نہیں، ایک کھیت نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے) پیش کیے گئے ہیں، لیکن اس نے ویڈیو میں جان ڈال دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ راجدھانی دہلی کے ’جواہر بھون‘ میں ’رچناتمک کانگریس‘ کے زیر اہتمام اور ’منریگا بچاؤ مورچہ‘ کے بینر تلے منعقد اس تقریب میں منریگا کی خوبیوں اور ’جی رام جی‘ کی خامیوں پر کانگریس صدر کھڑگے اور راہل گاندھی نے سیر حاصل تقریر کی۔ کانگریس صدر نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت منریگا کو ختم کرنے کا کام اس لیے کر رہی ہے، تاکہ ملک کے دبے کچلے لوگوں کو ’بندھوا مزدور‘ بنایا جا سکے۔ نریندر مودی بندھوا مزدور بنا کر امیروں کے ہاتھ میں سونپے جا رہے ہیں، تاکہ لوگ امیروں کے اشاروں پر، ان کی مرضی کے پیسوں پر کام کریں۔‘‘ یہ بیان ملکارجن کھڑگے نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی شیئر کیا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’منریگا سے لوگوں کو 100 دن کام کی قانونی گارنٹی ملتی تھی، جسے تباہ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ہمیں منریگا اور کام کے حق کو بچانے کی لڑائی لڑنی ہے۔‘‘
دوسری طرف لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے تقریب میں موجود لوگوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جدوجہد میں قدم سے قدم ملا کر چلنے کی اپیل کی۔ جب راہل گاندھی تقریر کر رہے تھے تو ایک وقت پوچھا کہ منریگا کے اصولوں میں تبدیلی کر اس قانون کو کون سا نام دیا جا رہا ہے۔ جواب میں سامعین نے انھیں ’وی بی گرام جی‘ نام بتایا۔ ساتھ ہی ہال میں جمع بھیڑ نے یہ نعرہ بھی بلند کیا کہ ’وی بی گرام جی، جملہ ہے–غریبوں کے حق پر حملہ ہے‘۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران سامعین سے مخاطب ہوتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اگر آپ سب، ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں، تو پھر آپ منریگا کو جو بھی نام دینا چاہو گے وہی نام رکھا جائے گا۔ منریگا نام دو، یا پھر کوئی دوسرا نام دینا چاہو، اس منصوبہ کا نام کیا ہوگا آپ خود فیصلہ کرو گے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ منصوبہ کن اصولوں کے تحت چلے گی؟ کہاں چلے گی؟ کب تک چلے گی، کتنے گھنٹے چلے گی؟ سب آپ طے کریں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’منریگا کی جو تحریک ہے، یہ بہت بڑا موقع ہے۔ ہم جب ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں گے تو مودی جی پیچھے ہٹ جائیں گے، اور پھر سے منریگا شروع ہو جائے گا۔‘‘