کورس منسوخی کے بعد ویشنو دیوی کالج کے ایم بی بی ایس طلباء کو 7 میڈیکل کالجوں میں ملی جگہ

اننت ناگ جی ایم سی میں 8 طلباء کو داخلہ دیا گیا ہے، جبکہ باقی کالجوں میں 7-7 طلباء کو جگہ دی گئی ہے۔ جموں خطے میں ادھم پور، کٹھوعہ، راجوری اور ڈوڈہ کے جی ایم سی میں طلباء کو جگہ دی گئی ہے۔

تصویر بشکریہ ٹوئٹر
i
user

قومی آواز بیورو

جموں کے کٹرا میں شروع ہونے والا ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلباء کے لیے ایک سنہرا خواب تھا لیکن یہ خواب زیادہ دن نہیں چل پایا۔ کالج کا ایم بی بی ایس کورس منسوخ ہونے کے بعد وہاں پڑھنے والے 50 طلباء اچانک پریشانی میں آگئے۔ اب حالات میں کچھ بہتری آئی ہے اور یہ سبھی طلباء جموں و کشمیر کے مختلف میڈیکل کالجوں میں نئی شروعات کرچکے ہیں۔

ویشنو دیوی میڈیکل کالج کو گزشتہ سال ستمبر میں ایم بی بی ایس سیٹیں بھرنے کی اجازت ملی تھی۔ 50 طلباء کو این ای ای ٹی کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا تھا لیکن لسٹ جاری ہونے کے بعد جموں میں احتجاج شروع ہوگیا۔ وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر منتخب طلباء غیر ہندو تھے اور کالج کو ویشنو دیوی مندر کے عطیات سے منسلک بتایا جارہا تھا۔ لگاتار چل رہے احتجاج کے درمیان نیشنل میڈیکل کمیشن نے کالج کے بنیادی ڈھانچے میں خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے 26-2025 سیشن کے لیے ایم بی بی ایس کورس کی اجازت واپس لے لی۔ اس کے بعد کالج کا پہلا بیچ ادھورا رہ گیا لیکن طلباء کی پڑھائی بچانے کے لیے انہیں دوسرے کالجوں میں منتقل کر دیا گیا۔


ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے پہلے بیچ کے طلباء نے داخلہ کے ابتدائی دنوں میں ایک واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔ اس وقت گروپ میں خوشیوں، مبارکبادوں اور مستقبل کے خوابوں کی باتیں ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے کالج کے حوالے سے تنازعہ بڑھا گیا، وہی گروپ پریشانی اور خوف کا باعث بن گیا۔ اب کالج تو نہیں رہا لیکن وہ واٹس ایپ گروپ اس بیچ کی آخری نشانی بن کر رہ گیا ہے۔

جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرینس ایکزامنیشن نے کونسلنگ کے بعد تمام 50 طلباء کو 7 سرکاری میڈیکل کالجوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ان میں سے 22 طلباء کو کشمیر کے میڈیکل کالجوں میں اور 28 کو جموں ڈویژن کے کالجوں میں جگہ دی گئی ہے۔ کشمیر میں اننت ناگ، بارہمولہ اور ہندواڑہ کے جی ایم سی میں بھیجا گیا ہے۔ اننت ناگ جی ایم سی میں 8 طلباء کو داخلہ دیا گیا ہے، جبکہ باقی کالجوں میں 7-7 طلباء کو جگہ دی گئی ہے۔ جموں خطے میں ادھم پور، کٹھوعہ، راجوری اور ڈوڈہ کے جی ایم سی میں طلباء کو جگہ دی گئی ہے۔


تمام کشمیری طالب علموں کو یا تو کشمیر کے اندر یا پھر ان علاقوں کے کالجوں میں بھیجا گیا ہے جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے۔ اس سے طلباء اور ان کے اہل خانہ کی پریشانیوں کو بڑی حد تک دور کر دیا گیا ہے۔  اس دوران کشمیر میں موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی طلباء نے کلاس جوائن کرلی ہے حالانکہ طلباء میں اس بات پر تشویش ضرور پائی جاتی ہے کہ جو وقت پڑھائی کا ضائع ہوگیا ہے اس کی تلافی کیسے ہوگی۔ خاص طور اناٹومی جیسے مشکل مضمون کے بارے میں کئی طلباء فکر مند ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔