کنگ جارج میڈیکل کالج سے متصل 700 سالہ درگاہوں سے متعلق کارروائی مذہبی و آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی: جمعیۃ علماء ہند

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کنگ جارج میڈیکل کالج سے متصل مزارات 700 سال سے زائد عرصہ سے قائم ہیں، جب کہ کالج کا قیام 1912 میں عمل میں آیا۔

<div class="paragraphs"><p>مولانا محمود مدنی /  ویڈیو گریب</p></div>
i
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ کی جانب سے کیمپس سے متصل حضرت حاجی حرمین شاہؒ کے احاطہ میں توڑ پھوڑ، اور اب حضرت مخدوم شاہمینہؒ کے احاطے میں 500 سالہ قدیم مزارات کے خلاف انہدامی نوٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کالج انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ گمراہ کن پروپیگنڈا کے ذریعے وقف جائیدادوں کے سلسلے میں ملک کے قانون کی خلاف ورزی سے باز آئے اور بلاتاخیر اپنا نوٹس واپس لے۔

مولانا مدنی نے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کنگ جارج میڈیکل کالج سے متصل مزارات 700 سال سے زائد عرصہ سے قائم ہیں، جب کہ کالج کا قیام 1912 میں عمل میں آیا۔ ایسی صورت میں میڈیا میں یہ تاثر دینا کہ کالج کے احاطے میں درگاہوں کا کیا کام ہے، سراسر جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ کالج کے قیام کے وقت، 1912 میں، محکمۂ مال (ریونیو ڈپارٹمنٹ) نے درگاہ کی زمین کو یونیورسٹی کیمپس سے الگ حد بندی کے ذریعہ واضح کر دیا تھا، جو اس کی مستقل اور علیحدہ قانونی حیثیت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔


مولانا مدنی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 26 اپریل 2025 کو 700 سالہ قدیم آستانۂ حضرت حاجی حرمین شاہؒ کی حدود میں واقع وضوخانہ، عبادت گاہ اور زائرین کی آمد و رفت سے متعلق سہولیات کو پروفیسر ڈاکٹر کے. کے. سنگھ کی نگرانی میں مسمار کیے جانے کا عمل بھی غیر قانونی اور یک طرفہ عمل تھا، جس سلسلے میں کوئی عدالتی حکم موجود نہیں ہے۔ لیکن یہ عمل میڈیا کے غلط بیانات کے شور میں انجام دیا گیا۔

مولانا مدنی کے مطابق جیسا کہ واضح ہے، مذکورہ اراضی وقف ایکٹ 1995 کے تحت باقاعدہ وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ میں درج ہے۔ وقف قانون کے مطابق وقف جائیداد سے متعلق کسی بھی تنازعہ یا کارروائی کا اختیار صرف مجاز عدالت کو حاصل ہے، نہ کہ کسی تعلیمی ادارے یا اس کے کسی افسر کو۔ اس لیے اس نوعیت کے نوٹس اور دھمکی آمیز طرز عمل سراسر غیر قانونی ہیں۔ آخر میں مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ایسے مواقع پر وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ فعال اور متحرک کردار ادا کرے، قدیم آثار، مزارات اور معابد کی منظم نشاندہی کے لیے ایک خصوصی مہم چلائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ متذکرہ بالا درگاہ میں جو حصے منہدم کیے گئے ہیں، ان کی بازیابی کا راستہ تلاش کیا جائے۔ متولیوں کو متعلقہ قانونی دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کرے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات اور تنازعات کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔