مہاراشٹر انتخاب: بی جے پی کی شرمناک شکست، ’ایم وی اے‘ کا 80 فیصد سیٹوں پر قبضہ

مہاراشٹر کانگریس صدر بالا صاحب تھوراٹ کے مطابق 14234 گرام پنچایتوں کا جو نتیجہ برآمد ہوا ہے ان میں کانگریس کو 4 ہزار سے زائد سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور بی جے پی کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بالا صاحب تھوراٹ، تصویر آئی اے این ایس
بالا صاحب تھوراٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: ریاست میں 14234 گرام پنچایتوں میں ہوئے انتخابات کے نتائج آج ظاہر ہوئے جن میں 4 ہزار سے زائد گرام پنچایتوں پر کانگریس پارٹی نے اکثریت حاصل کی ہے جبکہ 80 فیصد نشستو ں پر مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروں نے کامیابی کا پرچم لہرایا ہے۔ یہ دعویٰ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بالا صاحب تھوراٹ نے کیا ہے۔ انھوں نے برآمد نتائج پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان نتائج سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے اپنے ایک سالہ کارکردگی کے دوران ریاست کی عوام کا بھرپور اعتماد جیتا ہے۔ دوسری جانب اس الیکشن میں بی جے پی کی شرمناک شکست ہوئی ہے، مگر بی جے پی کے لیڈران اپنی شکست کا اعتراف کرنے کے بجائے جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مگر جس عوام نے مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروں کو کامیاب کیا ہے وہ اصل حقیقت سے واقف ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تھوراٹ نے مزید کہا کہ ریاست کی عوام کو مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر بھرپور اعتماد ہے اور آج کے گرام پنچایت انتخابات کے نتائج نے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے۔ کولہاپور، نندوربار، لاتور، ناندیڑ، امراؤتی، ایوت محل، ناگپور، وردھا، چندرپور، عثمان آباد، واشم اور بلڈانہ اضلاع میں کانگریس نمبر ون کی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ اسمبلی انتخابات کی مانند عوام نے اس انتخابات میں بھی بی جے پی کو شرمناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے کانگریس، این سی پی وشیوسینا کے امیدوراوں کے حق میں اپنی حقِ رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ ودربھ میں کانگریس پارٹی کو بھرپور کامیابی ملی ہے جہاں اس نے 50 فیصد سے زائد گرام پنچایتوں پر اپنا پرچم لہرایا ہے۔ وردبھ کی عوام نے کانگریس کوبغیر کسی تردد کے بھرپور کامیابی دی ہے۔ مراٹھواڑہ میں کانگریس کی نشستوں اور ووٹنگ شیئر میں بھی اضافہ ہوا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی کانگریس نمبرون کی پارٹی بن کر ابھرے گی۔

تھوراٹ نے کہا کہ اس انتخابی نتائج میں بی جے پی کی جو شرمناک شکست ہوئی ہے وہ دراصل اس کی پالیسی وپروگرام کی ناکامی ہے، جسے عوام نے مکمل طور پر خارج کردیا ہے۔ بی جے پی کے بیشتر لیڈران اپنے آبائی گاؤں میں بھی بی جے پی کو کامیاب نہیں کراسکے ہیں اور اپنی عادت کے مطابق عوام کے درمیان جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے اپنی پارٹی کو سب سے بڑی پارٹی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی شکست کا اعتراف کرنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ کھلے دلوں سے اپنی شکست تسلیم کریں۔ گرام پنچایت کے اس الیکشن میں مہاوکاس اگھاڑی کے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔مجھے یقین ہے کہ مہاوکاس اگھاڑی کی کامیابی کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next