ایس آئی ٹی نے لکھیم پور سانحہ کو منصوبہ بند سازش قرار دیا، آشیش شرما سمیت 14 پر چلے گا قتل کا مقدمہ

لکھیم پور سانحہ کے اہم ملزم آشیش مشرا سمیت 14 لوگوں پر جانچ کے بعد دفعات تبدیل کی گئی ہیں۔ تمام ملزمان پر دانستہ طور پر منصوبہ بنا کر جرم کرنے کا الزام ہے۔

لکھیم پور کھیری تشدد / آئی اے این ایس
لکھیم پور کھیری تشدد / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھیم پور کھیری: اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری سانحہ کی جانچ کرنے والی ایس آئی ٹی نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ کسانوں کو گاڑی سے کچلنے کا واقعہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ ایس آئی ٹی نے اب ملزمان پر لگائی گئی دفعات بھی تبدیل کر دی ہیں۔ مرکزی مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا سمیت 14 ملزمان پر اب غیر ارادتاً قتل کی جگہ قتل کا مقدمہ چلے گا۔ آج ملزمان کی عدالت میں پیشی ہونی ہے۔

لکھیم پور سانحہ کے اہم ملزم آشیش مشرا سمیت 14 لوگوں پر جانچ کے بعد دفعات تبدیل کی گئی ہیں۔ تمام ملزمان پر دانستہ طور پر منصوبہ بنا کر جرم کرنے کا الزام ہے۔ ایس آئی ٹی نے تعزیرات ہند کی دفعات 279، 338، 304 اے کو ہٹا کر 307، 326، 302، 354، 120بی، 147، 148، 149، 3/25/30 عائد کی گئی ہیں۔


خیال رہے کہ اسی سال تین اکتوبر کو یوپی میں لکھیم پور کھیری کے تکونیا میں چار کسانوں کو ایک ایس یو وی نے اس وقت روند دیا تھا، جب وہ ایک تقریب میں زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے۔ تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی بھی موجود تھے۔

واقعہ کے بعد تشدد میں مقامی صحافی رمن کشیپ سمیت کچھ دیگر لوگوں نے بھی اپنی جان گنوائی تھی۔ کسانوں کا الزام تھا کہ ایس یو وی اجے مشرا ٹینی کی تھی اور اس میں ان کا بیٹا آشیش مشرا موجود تھا۔ سپریم کورٹ میں معاملہ کی پہلی سماعت 8 اکتوبر کو ہوئی تھی۔ تشدد کے بعد کئی دنوں کے بعد آشیش مشرا عرف مونو کو 9 اکتوبر کو کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔