شیو سینا کے ساتھ اتحاد ممکن، لیکن ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد ناممکن: پرکاش امبیڈکر

ممبئی عظمیٰ میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیشِ نظر ونچت بہوجن آگھاڑی کا انڈین یونین مسلم لیگ اور راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان

پرکاش امبیڈکر، تصویر آئی اے این ایس
پرکاش امبیڈکر، تصویر آئی اے این ایس
user

محی الدین التمش

ممبئی: ممبئی عظمٰی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر پرکاش امبیڈکر کی ونچت بہوجن آگھاڑی نے انڈین یونین مسلم لیگ اور لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت شیو سینا سے اتحاد کرنا پسند کرے گی، لیکن مجلس اتحادالمسلمین سے دوبارہ اتحاد نہیں کریں گی۔ دادر علاقے کے 2022 میں ممبئی عظمیٰ میونسپل کارپوریشن کے انتخاب کے لئے نئے اتحاد کا اعلان کرتے ہوئے پرکاش امبیڈکر نے مجلس اتحاد المسلین کے ساتھ رشتہ توڑتے ہوئے انڈین یونین مسلم لیگ کا دامن تھام لیا ہے۔

ممبئی میونسپل کارپریشن کے انتخابات فروری 2022 میں ہونے والے ہیں اس مناسبت سے دستور ہند کے معمار بھیم راؤ امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کی جماعت ونچت بہوجن آگھاڑی نے ایک نئے اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ پرکاش امبیڈکر نے اس سے قبل مجلس اتحادالمسلمین کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے 2019 کے انتخابات میں قسمت آزمائی تھی، لیکن یہ اتحاد پرکاش امبیڈکر کے حق میں فائدہ مند ثابت نہیں ہوپایا، البتہ اس کا فائدہ ایم آئی ایم کے رکن پارلیمان امتیاز جلیل کو اورنگ آباد پارلیمنٹ سیٹ جیتنے میں ضرور حاصل ہوا۔ ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کے سوال پر پرکاش امبیڈ کر نے کہا کہ ایم آئی ایم نے 2019 کے عام انتخابات میں سیکولر اسٹینڈ کی بنیاد پرالیکشن نہیں لڑا تھا جس کی بناء پر ان کی پارٹی کا اوبی سی طبقہ ایم آئی ایم سے ناراض ہے۔ یاد رہے کہ 2019 عام انتخابات کے بعد ہی ایم آئی ایم اور ونچت بہوجن آگھاڑی کا اتحاد ٹوٹ گیا تھا۔


پرکاش امبیڈکر نے ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ممبئی عظمیٰ میونسپل کارپوریشن انتخاب کے لئے بی جے پی اور مہاوکاس آگھاڑی کانگریس این سی پی اور شیو سینا اتحاد کے علاوہ تیسرا مورچہ تشکیل دیا ہے۔ تیسرا مورچہ کتنا کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ عوام ہی کرے گی، البتہ مسلم لیگ اور آر جے ڈی لیڈران سے گفتگو کے بعد ہی تیسرا مورچہ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس مورچے میں شمولیت کے لئے دیگر تنظیموں اور جماعتوں سے بھی گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔

مجلس اتحادالمسلمین رکن پارلیمان امتیاز جلیل نے پرکاش امبیڈکر کی تنقید پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پرکاش امبیڈکر ک وکسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کا اختیار ہے۔ چاہیں وہ شیو سینا کے ساتھ اتحاد کریں یا کسی اور جماعت کے ساتھ، وہ پرکاش امبیڈکر کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اورنگ آباد سے ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے کہا کہ بی ایم سی اور دیگر لوکل باڈی انتخابات سے متعلق ایم آئی ایم نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اگر آنے والے مہاراشٹر اسمبلی اجلاس میں کانگریس این سی پی مسلم ریزویشن بل کو اکثریت سے پاس کرتی ہے تو ان کی جماعت بی ایم سی سمیت دیگر لوکل باڈی کے انتخابات نہیں لڑے گی۔


پرکاش امبیڈکر کی ونچت بہوجن آگھاڑی کے ساتھ انڈین یونین مسلم لیگ کے اتحاد سے متعلق مسلم لیگ کے جنرل سکریٹری عبدالرحمٰن سی ایچ نے کہا کہ ونچت آگھاڑی کے ساتھ انتخابی سمجھوتے کا فیصلہ ملک کے حالات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابی سمجھوتہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ انہیں امید ہے کہ انتخابی سمجھوتہ عوامی بھلائی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ دلت اور مسلمانوں پر ظلم وستم اور بنیادی عوامی مسائل سے بی ایم سی کی چشم پوشی کے سبب مسلم لیگ اور ونچت بہوجن آگھاڑی کا انتخابی سمجھوتہ عمل میں آیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔