سری نگر حملہ: ایک اور پولیس اہلکار کے دم توڑنے کے ساتھ مہلوکین کی تعداد 3 ہوئی

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس طرح مہلوکین کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی ہے۔ متوفی پولیس اہلکار کی شناخت کانسٹیبل رمیض احمد ولد محمد امین ساکن یچھ ہامہ گاندر بل کے بطور ہوئی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سری نگر کے زیون پانتھ چوک علاقے میں ملی ٹنٹوں کے حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک اور پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا اور اس طرح مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 3 ہوگئی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ زیون حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سے ایک اور پولیس اہلکار منگل کی صبح زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح مہلوکین کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی ہے۔ متوفی پولیس اہلکار کی شناخت کانسٹیبل رمیض احمد ولد محمد امین ساکن یچھ ہامہ گاندر بل کے بطور ہوئی ہے۔


بتادیں پیر کی شام ملی ٹنٹوں نے سری نگر کے زیون علاقے میں آرمڈ پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 14 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طور پر فوج کے بادامی باغ اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں دو پولیس اہلکاروں نے زخموں کی تاب نہ لا کر گزشتہ رات ہی دم توڑ دیا۔

مہلوکین کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر غلام حسن ساکن رام بن اور کانسٹیبل شفیق علی ساکن مہور ریاسی کے بطور ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ جیش محمد نامی ملی ٹنٹ تنظیم کی ذیلی تنظیم ’کشمیر ٹائیگرز‘ نے کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔