’مودی حکومت ایوان کو رخنہ انداز کرنے کے لیے اپوزیشن کو اُکسا رہی ہے‘

ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں کہا کہ ’’حکومت اپنے فیصلے پر غور نہیں کر رہی، اور چونکہ آپ (چیئرمین) ایوان کے محافظ ہیں، ہم گزارش کرتے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ کی معطلی رد ہو۔‘‘

ملکارجن کھڑگے، تصویر آئی اے این ایس
ملکارجن کھڑگے، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز راجیہ سبھا میں الزام عائد کیا کہ حکومت 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی رد کرنے پر غور نہیں کر کے اپوزیشن کو ایوان رخنہ انداز کرنے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔ کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ ’’حکومت اپنے فیصلے پر غور نہیں کر رہی ہے، اور چونکہ آپ (چیئرمین) ایوان کے محافظ ہیں، ہم گزارش کرتے ہیں کہ معطلی رد کی جائے۔ حکومت کا ضدی نظریہ اپوزیشن کو ایوان میں رخنہ انداز کرنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ اس لیے ہم واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

اس بیان کے بعد راجیہ سبھا چلا رہے ایم ونکیا نائیڈو نے ایوان کو دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی اور کہا کہ دونوں فریقین کو معاملے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ اس سے قبل کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ ’’ایوان کے لیڈر یہاں ہیں اور ہم گزارش کرتے ہیں کہ معطلی رد ہو۔‘‘ اس مطالبے کی ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ تروچی شیوا نے حمایت کی۔


قابل ذکر ہے کہ معطل اراکین پارلیمنٹ میں کانگریس کے سید نصیر حسین، اکھلیش پرساد سنگھ، پھولو دیوی نیتام، چھایا ورما، رپن بورا، راج منی پٹیل، شیوسینا سے پرینکا چترویدی، انل دیسائی، سی پی آئی ایم سے ایلارام کریم، سی پی آئی سے بنوئے وشوم اور ترنمول کانگریس کی ڈولا سین و شانتا چھیتری شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔