کشمیر: سری نگر میں تصادم، 2 مقامی ملی ٹینٹ ہلاک، ایک کے قبضہ سے میڈیا کارڈ برآمد

پولیس نے مہلوک ملی ٹینٹوں کی شناخت رئیس بٹ اور ہلال احمد کے بطور کی ہے، رئیس نے اگست 2021 جبکہ اُس کے ساتھی ہلال نے اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی

کشمیر میں تصادم کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
کشمیر میں تصادم کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: جموں وکشمیر کے گرمائی دارلخلافہ سری نگر کے سُر ٹینگ رینہ واری علاقے میں شبانہ تصادم آرائی کے دوران پولیس نے 2 مقامی ملی ٹینٹوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج کے مطابق ایک مہلوک ملی ٹینٹ کے قبضے سے میڈیا کا شناختی کارڈ برآمد ہوا۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ملی ٹینٹ پائین شہر کے سُر ٹینگ رینہ واری علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس و سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر فوراً اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کے لئے کارروائی شروع کی۔


انہوں نے کہا کہ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر ملی ٹینٹوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔ ترجمان نے بتایا کہ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو ملی ٹینٹ مارے گئے جن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔

پولیس نے مہلوک جنگجووں کی شناخت رئیس احمد بٹ اور ہلال احمد راہ ساکنان بجبہاڑہ کے بطور کی ہے۔ رئیس احمد بٹ نے اگست 2021 جبکہ اُس کے ساتھی ہلال احمد نے اسی سال اکتوبر کے مہینے میں ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل رئیس احمد ویلی نیوز سروس (وی این ایس) نامی ایک ’نیوز پورٹل‘ چلا رہا تھا۔


پولیس نے کہا کہ مارے گئے ملی ٹینٹ سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ا ُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیش پیش تھے جبکہ اُن کے خلاف کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ آئی جی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ ایک مہلوک ملی ٹینٹ کے قبضے سے میڈیا کا شناختی کارڈ برآمد ہوا ہے جو میڈیا کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔

(ان پٹ: یو این آئی)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔