جب نہرو نے لوک سبھا میں اپوزیشن کو زیادہ وقت دینے کی وکالت کی، جے رام رمیش کی دستاویزی یاد دہانی

جے رام رمیش نے 18 دسمبر 1954 کی لوک سبھا کارروائی کی دستاویزات شیئر کیں جن میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسپیکر کو ہٹانے کی بحث میں اپوزیشن کو حکومت سے زیادہ وقت دینے کی درخواست کی تھی

<div class="paragraphs"><p>پنڈت نہرو، جے رام رمیش</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تاریخی حوالہ پیش کرتے ہوئے 18 دسمبر 1954 کی لوک سبھا کارروائی کی یاددہانی کرائی ہے۔ ان کی پوسٹ میں اس دن کی پارلیمانی بحث کا پس منظر اور اصل کارروائی کے اقتباسات شامل ہیں، جب اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کو ہٹانے کی قرارداد پر بحث شروع ہوئی تھی۔ جے رام رمیش نے اس موقع پر وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے طرزِ عمل کو اجاگر کیا ہے، جسے وہ جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایت کی علامت قرار دیتے ہیں۔

پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی بحث کا آغاز ہوا، ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کو مطلع کیا کہ اس قرارداد پر غور کیا جائے گا اور اس کے لیے دو گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے، جو سہ پہر 3 بج کر 30 منٹ سے شام 5 بج کر 30 منٹ تک تھا۔ اس موقع پر جواہر لال نہرو نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے ایک غیر معمولی گزارش پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر وقت کی تقسیم کسی تناسب کے تحت کی جاتی ہے لیکن اس خاص معاملے میں اپوزیشن کو حکومت کی بنچوں کے مقابلے میں زیادہ وقت دیا جانا چاہئے۔


نہرو نے واضح کیا کہ حکومت زیادہ وقت لینے کی خواہش نہیں رکھتی اور انہیں امید ہے کہ حکومت کی جانب کے اراکین بھی اپنے خطابات میں ایوان کا وقت زیادہ نہیں لیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حکومت کو اپنی بات ضرور رکھنی ہوگی لیکن اس کے باوجود انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے درخواست کی کہ اپوزیشن کو زیادہ وقت دینے پر غور کیا جائے۔ جے رام رمیش کے مطابق یہ رویہ اس وقت کے وزیر اعظم کی جمہوری سوچ اور اپوزیشن کے احترام کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنی پوسٹ میں جے رام رمیش نے یہ پس منظر بھی پیش کیا کہ پہلی لوک سبھا میں کانگریس کے پاس کل 489 میں سے 364 نشستیں تھیں۔ اس کے باوجود، جب اپوزیشن میں کوئی بڑا اور معروف قومی رہنما موجود نہیں تھا، تب بھی وزیر اعظم نہرو پارلیمان میں اپوزیشن کے کردار کو مضبوط اور بامعنی دیکھنا چاہتے تھے۔ جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ نہرو نے جس پارلیمان کو روزانہ کی بنیاد پر بیٹھ کر، گفتگو سن کر، جواب دے کر اور مختلف آرا کو سمیٹ کر تشکیل دیا، وہ آج اپنے اصل اور جاندار روپ کی ایک مدھم سی جھلک بن کر رہ گئی ہے۔


جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے ساتھ لوک سبھا کی کارروائی کے دو صفحات کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔ ان دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے کہ کس طرح یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بل اور دیگر امور کے بعد اسپیکر کو ہٹانے کی قرارداد ایوان میں پیش کی گئی، بحث کے لیے وقت طے ہوا اور پھر وزیر اعظم نے اپوزیشن کے حق میں زیادہ وقت دینے کی بات کہی۔ ان صفحات میں نہ صرف نہرو کا مکمل بیان درج ہے بلکہ اس دور کی پارلیمانی زبان، اندازِ گفتگو اور جمہوری حساسیت بھی جھلکتی ہے، جسے جے رام رمیش آج کے حالات سے جوڑ کر ایک معنی خیز سوال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔