’نریندر مودی جی کی ہمت نہیں ہوئی ایوان میں آنے کی‘، راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ پرینکا گاندھی بھی حملہ آور

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ جو اراکین پارلیمنٹ وزیر اعظم پر حملہ کرنا چاہتے تھے، ان پر ایف آئی آر کرائیں۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومت بحث سے ڈرتی ہے۔ حکومت نے مجھے ایوان میں بولنے نہیں دیا۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی / تصویر بشکریہ ایکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی لگاتار یہ آواز اٹھا رہے ہیں کہ انھیں ایوانِ زیریں میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، جو لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے لیے حاضر بھی نہیں ہوئے۔ اس معاملہ میں راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ پرینکا گاندھی بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’اسپیکر پر اتنا دباؤ ہے کہ انھیں خود بیان دینا پڑ رہا ہے، جو مناسب نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اس کا سوال ہی نہیں اٹھتا کہ کوئی مودی جی پر ہاتھ اٹھائے۔ ایوان میں کانگریس کی 11 خاتون اراکین پارلیمنٹ ہیں، جن میں سے میں بھی ایک ہوں۔ سبھی خاتون اراکین پارلیمنٹ سنجیدہ سیاستداں ہیں۔ اسپیکر نے ان کی بے عزتی کی ہے۔ اسپیکر پر حکومت نے ایسا کہنے کا دباؤ ڈالا ہے۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ یہاں تک کہتی ہیں کہ ’’نریندر مودی جی کی ہمت نہیں ہوئی ایوان میں آنے کی، اس لیے اسپیکر سے صفائی دلوا رہے ہیں۔‘‘

اس معاملہ میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پہلے ہی پی ایم مودی اور حکومت کے ’خوفزدہ‘ ہونے کی بات کہہ چکے ہیں۔ آج لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے بعد میڈیا اہلکاروں سے انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی سچ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ وہ میرے بولنے سے ڈر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کو اراکین پارلیمنٹ سے ڈر نہیں، جو میں بولتا ہوں اُس سے ڈر ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’جو اراکین پارلیمنٹ پی ایم مودی پر حملہ کرنا چاہتے تھے، ان پر ایف آئی آر کرائیں۔‘‘


راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ حکومت ایوان میں بحث سے ڈرتی ہے، اس لیے ایوان میں حزب اختلاف کے قائد کو بولنے نہیں دیا گیا۔ سابق فوجی چیف منوج مکند نروَنے کی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’حکومت نہیں چاہتی تھی کہ میں اس پر بات کروں، اس لیے انھوں نے ایوان کو روکا۔ انھوں نے مجھے بولنے نہیں دیا، ایسا 4-3 بار ہوا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’وزیر دفاع نے جھوٹ کہا کہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے، جبکہ کتاب شائع ہو چکی ہے اور ہمیں اس کی ایک کاپی بھی ملی ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم ایشو ہے کہ صدر جمہوریہ کی تقریر پر حزب اختلاف کے قائد اور پورے اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا۔ دوسرا اہم ایشو یہ ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ کئی کتابوں کا حوالہ دے رہے تھے اور بہت گندی باتیں بول رہے تھے، انھیں کچھ بھی نہیں کہا گیا۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’تیسرا ایشو ہمارے اراکین کی معطلی ہے۔ ایک آخر ایشو یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کو اراکین پارلیمنٹ سے خطرہ ہونے کی بات پھیلائی جا رہی ہے۔ ایسا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ وزیر اعظم ایوان میں آنے سے ڈرے ہوئے تھے، اراکین پارلیمنٹ کی وجہ سے نہیں، بلکہ میری باتوں کی وجہ سے۔ اور وہ اب بھی خوفزدہ ہیں، کیونکہ وہ سچ کا سامنا نہیں کر سکتے۔‘‘

دراصل لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لوک سبھا میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا تھا، اس لیے وہ صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے لوک سبھا میں نہیں آئے۔ گزشتہ بدھ کی شام 5 بجے جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تھی، تب مبینہ طور پر اپوزیشن کی خاتون اراکین پارلیمنٹ نے ایوان میں ہنگامہ کیا تھا۔ وہ وزیر اعظم کی کرسی کے پاس کھڑی تھیں، حالانکہ وزیر اعظم وہاں موجود نہیں تھے۔ خاتون اراکین پارلیمنٹ ہاتھ میں بینر لیے ہوئے نعرہ لگا رہی تھیں۔ اس ہنگامہ کے سبب ہی ایوان کی کارروائی اگلے دن تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ اس وجہ سے پی ایم مودی کی ہونے والی تقریر بھی ملتوی کر دی گئی۔ اس واقعہ کے بعد لوک سبھا اسپیکر نے فکر کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے قبل پارلیمنٹ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔