جے رام رمیش کا حملہ- ’وزیر اعظم مودی ذاتی نفرتوں کے قیدی، راجیہ سبھا میں سوالوں کا جواب نہیں دیا‘

جے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی نفرتوں کے قیدی ہیں اور انہوں نے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کے سنجیدہ سوالوں کا جواب نہیں دیا

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے راجیہ سبھا میں وزیر اعظم کی حالیہ تقریر پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مودی ذاتی نفرتوں کے قیدی ہیں اور انہوں نے ایوان میں اٹھائے گئے سنجیدہ سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ اپنے تازہ بیان میں جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ ان کے اندر عدم تحفظ، تعصبات اور تلخی کس قدر گہرائی تک سرایت کر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مسلسل جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور خود کو عظیم قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جتنا وہ ایسا کرتے ہیں اتنا ہی واضح ہوتا جاتا ہے کہ وہ نہ تو اچھے انسان ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں۔ جے رام رمیش کے مطابق 97 منٹ کی اس تقریر کو محض مایوس کن کہنا بھی کم ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اپنی ہی ذاتی نفرتوں کے اسیر ہیں اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی سنجیدہ سوال کا جواب نہیں دیا۔


کانگریس رہنما نے واشنگٹن ڈی سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وزیر اعظم کے ایک قریبی دوست کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 10 مئی 2025 کو آپریشن سندور کو رکوانے میں مداخلت کی گئی تھی اور یہ دعویٰ تیزی سے 100 کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سنگین دعوے کے باوجود وزیر اعظم اس معاملے پر مکمل خاموش ہیں۔

جے رام رمیش نے 19 جون 2020 کو مشرقی لداخ میں 20 سے زائد جوانوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی چین کو کلین چٹ دی گئی اور اس پر وضاحت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر خاموشی اختیار کرنا سوالات کو مزید گہرا کرتا ہے۔

جے رام رمیش کی اس سے قبل کی پوسٹ میں بھی وزیر اعظم کی تقریر کو انتخابی ریلی سے مشابہ قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ خطاب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور نازیبا تبصروں کا سہارا لیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ بجٹ اجلاس کے ساتویں دن لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک ہنگامے کے درمیان منظور کی گئی۔ 2004 کے بعد پہلی بار یہ تحریک وزیر اعظم کی تقریر کے بغیر منظور ہوئی۔ راجیہ سبھا میں بھی خطاب کے آغاز پر اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ کیا اور بعد میں واک آؤٹ کر گئے۔ لوک سبھا میں بھی کارروائی متعدد بار ملتوی کی گئی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔