مراد نگر حادثہ گراؤنڈ رپورٹ: زندگی بچانے ’چرچ اور مدینہ‘ کے فرشتے پہنچ گئے شمشان

شمشان گھاٹ حادثہ کے بعد وہاں پہنچے سنجے کا کہنا ہے ’’میں نے جو دیکھا اس سے ایک سبق سیکھا ہے، اور وہ یہ کہ زندگی بھر ہندو-مسلم-سکھ-عیسائی کی تفریق نہیں کروں گا، انسانیت کو سب سے بڑا مذہب مانوں گا۔‘‘

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

اتر پردیش کے مراد نگر واقع شمشان گھاٹ میں ہوئے حادثہ میں اب تک 25 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ یہ تعداد 40 تک پہنچ سکتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ شمشان گھاٹ کے قریب کی دو کالونیوں ’چرچ‘ اور ’مدینہ‘ کے لوگ فرشتے بن کر لوگوں کی جان بچانے وہاں پہنچ گئے۔ ان دونوں کالونیوں کے کئی گھروں کی دیوار تو شمشان گھاٹ سے بالکل ملی ہوئی ہے۔ جب شمشان گھاٹ واقعہ ہوا تو دونوں ہی بستیوں سے سینکڑوں لوگ منٹ بھر میں مدد کے لیے وہاں پہنچ گئے۔ دوسری طرف این ڈی آر ایف ٹیم کو یہاں پہنچنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگا، جب کہ مقامی پولس کی پہلی ٹیم کو پہنچنے میں 10 منٹ کا وقت لگا۔

واقعہ کے دن کا تذکرہ کرتے ہوئے چرچ کالونی کے باشندہ پیٹر ’قومی آواز‘ کو بتاتے ہیں کہ ’’بارش ہو رہی تھی اور میں گھر پر چائے نوشی کر رہا تھا۔ اچانک دھڑام کی آواز کے ساتھ زمین ہل گئی اور ہمارا گھر بھی دہل گیا۔ میری چائے کا کپ اچھل کر زمین پر گر گیا۔ چیخیں سنائی دیں تو میں دیوار پھاند کر شمشان میں گھس گیا۔ بہت بھیانک منظر تھا۔ لوگ ملبے کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ ان کی چیخ بھی نہیں نکل پا رہی تھی۔ جو لوگ باہر تھے وہ بدحواس تھے اور بری طرح تڑپ رہے تھے۔‘‘ پیٹر مزید بتاتے ہیں کہ ایک منٹ کے اندر مدد کرنے والوں کی بھیڑ شمشان گھاٹ میں پہنچ گئی۔ انھوں نے کہا کہ ’’چرچ کالونی اور مدینہ محلہ کے سینکڑوں نوجوان تیزی کے ساتھ پہنچے اور لوگوں کو بچانے میں مصروف ہو گئے۔ شمشان میں پہلی مرتبہ ہندوؤں سے زیادہ بڑی تعداد میں مسلمان اور عیسائی نظر آ رہے تھے۔ ایک عجیب منظر تھا جب ہمارے ہاتھوں میں طاقت آ گئی تھی۔ سب نے مل کر کئی پتھر توڑ ڈالے اور لوگوں کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے 7 لوگوں کو باہر نکالا۔ اس کام میں میری مدد جہانگیر خان اور دنیش شرما نے کی۔ ہم تینوں پڑوسی ہیں اور انسانیت کو بچانے کے لیے ایک ساتھ کھڑے تھے۔‘‘


شمشان گھاٹ کی بلڈنگ منہدم ہونے کے پیچھے کی وجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے پیٹر کہتے ہیں ’’جب شمشان گھاٹ کی بلڈنگ پر لینٹر ڈالا جا رہا تھا تو پڑوس کے لوگ خراب مال ہونے کی بات کرتے تھے۔ افسوس یہ بھی ہے کہ لوگ خوفزدہ تھے اور ایک مقامی شہری نے اس کی شکایت بھی کی تھی، پھر بھی توجہ نہیں دی گئی اور موت کو روکا نہیں جا سکا۔‘‘

مدینہ کالونی کے باشندہ جہانگیر خان کا کہنا ہے کہ وہ ڈیڑھ گھنٹے تک شمشان میں لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے کوشاں رہے۔ جہانگیر بتاتے ہیں کہ ’’سچ تو یہ ہے کہ میں پہلی بار شمشان گھاٹ کے اندر گیا۔ ہم نے ایک عجیب منظر اس دن دیکھا، میں اپنے ساتھیوں سمیر، جاوید، شعیب اور شاہد کے ساتھ مل کر ایک لینٹر کا ٹکڑا اٹھا رہا تھا تو اس کے نیچے سے ایک نوجوان نکلا اور ’بھوت بھوت‘ چیختا ہوا بھاگ گیا۔ وہ بہت تیزی کے ساتھ بھاگا، شاید حادثہ کا اس کے دماغ پر بہت گہرا اثر ہوا تھا۔‘‘


جہانگیر خان اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ شمشان میں نہیں جانا چاہیے۔ ہم پہلے کبھی وہاں گئے بھی نہیں، لیکن لوگوں کو مصیبت میں دیکھ کر ہم خود کو روک نہیں پائے۔ پولس کے آنے تک ہم چار لوگوں کو نکال چکے تھے۔ ہم خود کی بھی پروا نہیں کر رہے تھے۔ پھر پولس آ گئی اور انھوں نے ہمیں مائک سے احتیاط برتتے ہوئے مدد کرنے کی ہدایت دی۔‘‘

حادثہ کے بعد شمشان گھاٹ پہنچے سنجے کشیپ بتاتے ہیں کہ اگر چرچ اور مدینہ کالونی کے لوگ فوری طور پر یہاں نہیں پہنچے تو کئی لوگ تڑپ تڑپ کر مر جاتے۔ شمشان گھاٹ کا دردناک منظر دیکھنے والے سنجے بتاتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی آنتیں باہر نکلی ہوئی تھیں، تو کسی کا دل پھٹا ہوا تھا، بہت خوفناک نظارہ تھا۔ سنجے کہتے ہیں ’’حادثہ کے شکار لوگوں میں میرے ایک تاؤ جی بھی تھے اور ان کی حالت دیکھ کر میں بہت گھبرا گیا اور جہانگیر خان کے گلے لگ کر رونے لگا۔ میں نے حادثہ کے بعد ان لوگوں (مسلم اور عیسائی) کی ہمت دیکھی، میں انھیں سلام کرتا ہوں۔ یہ سب پتھروں کو توڑنے کے لیے ہتھوڑے ایسے چلا رہے تھے جیسے وہ پتھر نہیں بلکہ پھول ہوں۔‘‘


سنجے کشیپ کا کہنا ہے کہ اس دن بارش ہو رہی تھی، لیکن کسی نے بھی اپنی صحت کی پروا نہیں کی۔ سبھی بھیگتے رہے اور زندہ و مردہ لاشوں کو ملبے سے باہر نکالتے رہے۔ میں نے جو دیکھا ہے اس سے میں نے ایک سبق لی ہے، اور وہ یہ کہ زندگی بھر ہندو-مسلم-سکھ-عیسائی کی تفریق نہیں کروں گا، اور انسانیت کو سب سے بڑا مذہب مانوں گا۔ سنجے کہتے ہیں ’’چرچ کالونی اور مدینہ محلہ کے یہ لوگ فرشتے تھے۔ وہ پلک جھپکتے ہی یہاں مدد کے لیے پہنچ گئے تھے۔‘‘

تصویر بذریعہ آس محمد کیف
تصویر بذریعہ آس محمد کیف

مراد نگر میں ہوئے شمشان گھاٹ کے اس حادثہ کے بعد مقامی لوگوں میں ایک غصے کی لہر بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب یہ پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ شمشان گھاٹ میں ہوئی اس تعمیرات میں گھٹیا سامانوں کا استعمال کیا گیا اور ضابطوں کو طاق پر رکھ کر شاطرانہ طریقے سے اپنی پسند کے ٹھیکیدار کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹھیکہ دیا گیا۔ اسی غصے کے سبب پیر کے روز متاثرین کے اہل خانہ نے 5 گھنٹے سے زیادہ وقت تک سڑک پر جام لگائے رکھا۔


سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور ایم ایل سی آشو ملک مراد نگر میں ہی رہتے ہیں۔ وہ اتر پردیش حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’یہ سرکاری قتل عام ہے۔ یہ سبھی بے قصور لوگ سرکاری نظام اور ٹھیکیدار کی ملی بھگت سے پیدا بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت میں بدعنوانی عروج پر ہے اور بدعنوانی سے پاک ملک بنانے کا ان کا نعرہ پوری طرح کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔‘‘ بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آشو ملک یہ بھی کہتے ہیں کہ پارٹی کے لوگوں کو صرف نفرت کی دیوار مضبوط بنانی آتی ہے اور کوئی دوسری دیوار ان سے بنتی ہی نہیں۔ ابھی تک ان کی حکومت میں پل گر رہے تھے، اور اب شمشان گھاٹ میں بھی بدعنوانی ظاہر ہو گئی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔